ویب ڈیسک: امریکہ اور چین 'برین کمپیوٹر انٹرفیس' کی تیاری کی دوڑ تیز کر رہے ہیں، جو طب، ٹیکنالوجی اور بالآخر قومی سلامتی کے شعبوں کو بدل کر رکھ سکتی ہے۔
برسوں تک برین کمپیوٹر انٹرفیسز (بی سی آئی) کو سائنس فکشن کی دنیا تک محدود سمجھا جاتا رہا، تاہم اب یہ ٹیکنالوجی ہسپتالوں اور کلینیکل ٹرائلز کا حصہ بن رہی ہے۔ اس کی مدد سے دماغی سگنلز کو کمانڈز میں تبدیل کر کے کمپیوٹرز، روبوٹک اعضا اور دیگر آلات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اب جدید ترین ٹیکنالوجیز کے میدان میں امریکہ اور چین کی وسیع تر رقابت کا ایک غیر متوقع محاذ بن چکی ہے۔
امریکہ اس شعبے کی چند مشہور ترین کمپنیوں کا مرکز ہے، جن میں نیورالک (Neuralink)، سنکرون (Synchron)، پریسیژن نیوروسائنس (Precision Neuroscience) اور پیراڈرومکس (Paradromics) شامل ہیں۔ ان کے کام میں قوّتِ گوائی سے محروم افراد کے لیے مواصلات کی بحالی سے لے کر فالج کے مریضوں کو ڈیجیٹل آلات استعمال کرنے کے قابل بنانا شامل ہے۔
تاہم چین اس فاصلے کو تیزی سے ختم کر رہا ہے اور چند شعبوں میں بی سی آئی کے کلینیکل استعمال کے حوالے سے آگے نکل چکا ہے۔
مارچ میں چین نے ایک ایسے میڈیکل ڈیوائس کی منظوری دی جسے فودان یونیورسٹی نے ہاتھ کی حرکاتی صلاحیتوں کی بحالی کے لیے دنیا کا پہلا امپلانٹ ایبل کلاس 3 بی سی آئی قرار دیا۔ جولائی میں یہ سسٹم شنگھائی کے ہواشان ہسپتال میں کلینیکل استعمال کے لیے پیش کر دیا گیا۔
چینی محققین اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ 'بیناؤ 1' (Beinao 1) نامی سیمی انویسیو بی سی آئی انسانی امپلانٹیشن کے ابتدائی مراحل کے بعد رجسٹرڈ کلینیکل ٹرائلز میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ ڈویلپرز کا ہدف 2027 تک ہسپتالوں میں وسیع ٹرائلز شروع کرنا ہے۔ یہ سسٹم ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، فالج اور حرکاتی معذوری کے شکار مریضوں کو بیرونی آلات کے ساتھ رابطہ قائم کرنے یا انہیں کنٹرول کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پالیسی کی سطح پر بھی بیجنگ کا بڑھتا ہوا عزم اب واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرپرستی کے لیے چین کے تازہ ترین پانچ سالہ منصوبے میں روبوٹکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور ایمباڈیڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ساتھ ساتھ برین کمپیوٹر انٹرفیسز کو بھی ترقی کے لیے حکمتِ عملی کے اہم شعبوں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
واشنگٹن بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی قومی سیکیورٹی کمیشن برائے ابھرتی ہوئی بائیو ٹیکنالوجی نے رواں ہفتے خبردار کیا کہ بی سی آئی کے شعبے میں چین کی ابھرتی ہوئی قیادت حکمتِ عملی کے لحاظ سے خطرہ بن سکتی ہے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال صحت کی دیکھ بھال سے لے کر دفاع اور دماغی ڈیٹا پر تربیت یافتہ اگلی نسل کی اے آئی تک پھیل سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف سب سے جدید امپلانٹ تیار کرنے تک محدود نہیں ہے۔ بی سی آئی بالآخر اس انداز کو بھی متاثر کر سکتی ہے جس کے تحت انسان مصنوعی ذہانت، مشینوں اور خودمختار سسٹمز کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ ان آلات سے حاصل ہونے والا اعصابی ڈیٹا کا بہت بڑا ذخیرہ نجی معلومات کے تحفظ، رضامندی اور انسانی دماغ کے اندر سے جنم لینے والی معلومات کا کنٹرول کس کے پاس ہے، جیسے اہم سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔
اس کے باوجود یہ ٹیکنالوجی ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوئی۔ امپلانٹ کی میعاد، سگنلز کی تنزلی، سرجری کے خطرات، ڈیکوڈنگ کی درستگی اور کلینیکل ٹرائلز کا محدود پیمانہ ابھی تک بڑی رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔
چنانچہ امریکہ اور چین کے درمیان یہ ابھرتا ہوا مقابلہ صرف ایک ٹیکنالوجی کی دوڑ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جو ملک انسان کی اعصابی سرگرمیوں کو کامیابی کے ساتھ ڈیجیٹل کمانڈز میں تبدیل کرنے میں مہارت حاصل کر لے گا، وہ طب، مصنوعی ذہانت اور قومی سلامتی کے اہم سنگم پر برتری حاصل کر سکتا ہے۔




