واشنگٹن: 'دی وال اسٹریٹ جرنل' کی رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں جدید امریکی ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال سے امریکی عسکری ذخائر میں شدید کمی آئی ہے، جس سے چین اور روس کی جانب سے درپیش ممکنہ خطرات کا جواب دینے کی واشنگٹن کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے۔
امریکی عسکری منصوبہ سازوں نے خبردار کیا ہے کہ اہم گولہ بارود کی قِلّت کے باعث پورے یورپ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی 'امریکی یورپی کمانڈ' کو اپنے آپریشنل منصوبوں میں تبدیلیاں کرنا پڑی ہیں۔
امریکی حکام کے اندازے کے مطابق واشنگٹن کسی بھی مختصر مدت کے ملٹری آپریشن کے دوران تائیوان کے دفاع کے ہنگامی منصوبوں پر مکمل طور پر عمل کرنے سے قاصر رہے گا۔ واضح رہے کہ چین اس خود مختار جزیرے پر اپنی حاکمیت کا دعویٰ کرتا ہے۔
جاپان، جنوبی کوریا اور جرمنی سے ایئر ڈیفنس یونٹس کی مشرق وسطیٰ منتقلی سے امریکی اسلحے کے ذخائر پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے امریکی عالمی ملٹری حکمتِ عملی میں کمزور نقطے پیدا ہو گئے ہیں جنہیں پورا کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یورپ میں 'پی اے سی-3 پیٹریاٹ' انٹرسیپٹرز اور 'اٹاکمز' (ATACMS) سطح سے سطح پر مار کرنے والے میزائلوں کا ذخیرہ "انتہائی تشویشناک" حد تک کم ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ 'تھاڈ' (THAAD) اینٹی میزائل انٹرسیپٹرز اور ڈرون مخالف نظام کو بھی مشرق وسطیٰ منتقل کر دیا گیا ہے۔
انٹرسیپٹر میزائلوں کی کم دستیابی کی وجہ سے امریکی اتحادیوں کی یوکرین کو اضافی فضائی دفاعی سامان فراہم کرنے کی صلاحیت بھی محدود ہو گئی ہے، جبکہ روس کی جانب سے میزائل حملے مسلسل جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ کو گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ فوج کے پاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہداف پورے کرنے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں۔
دوسری جانب، بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے مطابق، اس تنازع کی وجہ سے خلیج میں تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے اور تقریباً 6,000 ملاحوں کے ساتھ 400 کے قریب بحری جہاز محفوظ طریقے سے نکلنے سے قاصر ہیں۔
آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال ابھی تک ناگفتہ بہ ہے۔ یہ اہم بحری راہداری عالمی تیل کی تجارت کے تقریباً پانچویں حصے کی نقل وحمل کا ذریعہ ہے۔
آئی ایم او نے تصدیق کی ہے کہ 28 فروری کو تنازع کے آغاز سے اب تک بین الاقوامی جہاز رانی پر کم از کم 70 حملے ہوئے ہیں، جن میں 19 ملاح ہلاک ہوئے۔
ڈومنگیز نے خبردار کیا کہ ایندھن اور کھاد کی سپلائی چین میں رکاوٹ کے دنیا بھر کی معیشتوں اور عوام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومتوں اور شپنگ انڈسٹری سے زور دے کر کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کی آزادی بحال کرنے کے لیے کوششیں تجدید کریں۔
امریکہ اور ایران نے جون میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے اور حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع کیے تھے، تاہم سیکیورٹی ضمانتوں اور بحری راستے پر جہاز رانی کی آزادی کے حوالے سے اختلافات کے باعث یہ بات چیت بعد میں معطل ہو گئی۔





