جنیوا: اقوام متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (یونیسیف) کے تخمینے کے مطابق 21 ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً 2 کروڑ بچوں کو ایک سال کے دوران آن لائن جنسی استحصال یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یونیسیف کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ میں 12 سے 17 سال کی عمر کے ہر پانچ میں سے ایک بچے نے آن لائن جنسی استحصال یا ہراسانی کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔
یہ نتائج 2020 اور 2025 کے درمیان پاکستان، کینیا، برازیل اور سربیا سمیت 21 ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً 21 ہزار بچوں پر کیے گئے قومی سطح کے سروے پر مبنی ہیں۔
رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو ناپسندیدہ جنسی مواد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 90 لاکھ بچوں پر جنسی گفتگو یا تصاویر شیئر کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ مزید 40 لاکھ بچوں کی جنسی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر شیئر کی گئیں۔
رپورٹ کیے گئے واقعات میں سے تقریباً 60 فیصد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے، جن میں فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک سرفہرست ہیں۔ جبکہ آن لائن گیمنگ کے ذریعے 14 فیصد کیسز سامنے آئے۔
یہ استحصال ہمیشہ اجنبیوں کی طرف سے نہیں کیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے آدھے سے زیادہ کیسز میں پہلے سے واقف افراد، بشمول دوست، رشتہ دار یا ساتھی شامل تھے۔ تاہم 38 فیصد کیسز میں بچوں کا پہلا رابطہ آن لائن پلیٹ فارمز پر ہوا تھا۔
واقعات کی رپورٹ نہ کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایک فیصد سے بھی کم کیسز پولیس، سوشل ورکرز یا ہیلپ لائنز پر رپورٹ کیے گئے، جو تحفظِ اطفال کے نظام اور رپورٹنگ کے طریقہ کار میں شدید خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے وابستہ نئے خطرات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ جن 9 ممالک سے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا وہاں تقریباً 11 لاکھ بچوں نے بتایا کہ اے آئی کے ذریعے ان کی جعلی جنسی تصاویر یا ویڈیوز بنائی گئیں۔
یونیسیف نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہونے والا جنسی استحصال بچوں کی ذہنی و نفسیاتی صحت پر شدید اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ایسے استحصال کا شکار ہونے والے بچوں میں خودکشی کے خیالات یا خود کو نقصان پہنچانے کے امکانات چار گنا زیادہ دیکھے گئے، جبکہ ان میں شدید تشویش (انزائٹی) بھی پائی گئی۔
یونیسیف نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے اقدامات مضبوط بنائیں، اے آئی کے ذریعے بنائے گئے جنسی مواد سمیت استحصال کی نئی صورتوں سے نمٹنے کے لیے قوانین کو جدید بنائیں اور رپورٹنگ کے نظام کو بہتر کریں۔
چونکہ پاکستان بھی اس تحقیق میں شامل ممالک میں سے ایک ہے، اس لیے یہ نتائج اس بات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں کہ آن لائن دنیا تک بچوں کی بڑھتی ہوئی رسائی کے پیش نظر ان کے تحفظ کے لیے مضبوط ڈیجیٹل اقدامات، آگاہی اور آسان رپورٹنگ کا نظام قائم کیا جائے۔




