نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے پیر کے روز رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ضروری اشیاء کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے فریم ورک کا حصہ بنیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے انتونیو گوٹیرس نے بتایا کہ اعتماد سازی کا یہ میکانزم مارچ میں ان کی قائم کردہ ٹاسک فورس نے تیار کیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس فریم ورک کی توجہ کھادوں اور خام مال کی ترسیل پر ہوگی، جبکہ بعد میں اس میں دیگر مصنوعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔
گوٹیرس نے کہا، ”اس کا مقصد بالکل واضح ہے: فوری خطرات کو کم کرنا، نقل و حمل کو زیادہ منظم اور قابلِ پیشگوئی بنانا، اور سفارت کاری و کشیدگی میں کمی کے لیے ضروری اعتماد کی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔“
انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ ایک غیر جانبدار سہولت کار کے طور پر کام کرے گی، جبکہ یہ میکانزم نہ تو گزرگاہ کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے تحت رکن ممالک کے قانونی حقوق اور ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی کرتا ہے۔
اس تجویز کی تیاری میں شامل ٹاسک فورس کی قیادت اقوام متحدہ کا دفتر برائے پروجیکٹ سروسز کر رہا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی، بین الاقوامی سمندری تنظیم اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس بھی اس میں شامل ہیں۔
گوٹیرس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آبنائے ہرمز، باب المندب اور روس یوکرین تنازع سے متاثرہ سمندری راستوں سمیت اہم بحری گزرگاہوں میں تعطل کے باعث توانائی اور زرعی مصنوعات کی عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے تنازع کا آغاز ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں عالمی سطح پر کنٹینر کے کرایوں میں 84 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی قانون کی پاسداری، ناخداؤں اور شہری جہازوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے گوٹیرس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ میکانزم ایک عملی قدم کے طور پر لایا گیا ہے، نہ کہ سیاسی حل کا مستقل متبادل۔








