کیف: یوکرینی صدر وولودیومیر زیلینسکی نے جمعے کو اپنے شام کے ٹیلی ویژن خطاب کے دوران بتایا کہ ان کے ملک نے امریکی مندوبین جیرڈ کوشنر اور اسٹیو وٹکوف کے متوقع دورے کے موقع پر مذاکرات میں سہولت کی خاطر روس کو عارضی جنگ بندی کی تجویز دی ہے۔
زیلینسکی نے کہا، ”ہماری جانب سے کوئی فضائی حملہ نہیں ہوگا“، اور روس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کی مدت کے دوران اپنے فضائی حملے معطل کرے۔
امریکی مندوبین کے دورے سے متعلق بات چیت جمعے کو بھی جاری تھی۔ اگر اس دورے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ دونوں امریکی مذاکرات کاروں کا کیف کا پہلا دورہ ہوگا۔ ایک سینئر یوکرینی اہلکار کے مطابق دونوں مندوبین کی اتوار کو کیف آمد متوقع ہے۔ معاملے سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ روس اس دورے کا مخالف ہے اور اس نے امریکی ٹیم کو اپنا سفری پروگرام تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
نئے سرے سے شروع کی جانے والی سفارتی کوششیں کوئی نمایاں پیش رفت لانے میں ناکام رہی ہیں۔ مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہونے والی جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر ماسکو اور کیف کے درمیان بظاہر نہ ختم ہونے والے اختلافات برقرار ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بارہا کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک اس وقت تک عارضی جنگ بندی قبول نہیں کرے گا جب تک مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے جائیں اور میدانِ جنگ میں روس کی حاصل کردہ کامیابیوں کو تسلیم نہ کیا جائے۔ یوکرینی ذرائع کے مطابق ان کے اس موقف کا تقاضا ہے کہ ان کا ملک مزید علاقوں سے دستبردار ہو، جسے کیف نے مسترد کر دیا ہے اور
اس سے قبل، ایک روسی ڈرون نے کیف میں یوکرین کی سیکیورٹی سروسز کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا،
زیلینسکی نے بتایا کہ انہوں نے فوج کو اس حملے کا ”مناسب اور وقیع جواب“ دینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ یوکرین کے وزیرِ خارجہ اینڈری سوبیگا نے اسے ”بڑی کشیدگی“ قرار دیا۔





