بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے شعبہ زچگی میں آگ بھڑک اٹھنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق آگ صبح تقریباً 6:45 بجے عمارت کے اندر ایئر کنڈیشنر میں دھماکے کے بعد لگی۔ واقعہ کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
یہ المناک واقعہ اسلام آباد کے اہم ترین سرکاری ہسپتال میں انتظامی ناکامیوں کی تاریخ کا تسلسل ہے۔ تین سال قبل بھی اے سی خراب ہونے کے باعث گرمی کی شدت سے ایمرجنسی وارڈ میں دو دنوں کے دوران چار مریض جاں بحق ہو گئے تھے، جن کی وجہ ایڈہاک انتظامی نظام کو قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں وفاقی محتسب کے دفتر کی جانب سے معائنے کے دوران ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج کیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر پر ہسپتال میں بدانتظامی اور عارضی اقدامات کے ذریعے بنیادی مسائل کو چھپانے کا الزام عائد کیا۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ان ہلاکتوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے:
سینیٹر شیری رحمان نے اس واقعہ کو وزارت صحت اور نظام کی خرابی پر "شدید داغ" قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا شہریوں کو شفایابی کے لیے یہاں بھیجا جاتا ہے؟ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مائیں بچوں کو نو ماہ تک اس لیے پیٹ میں نہیں پالتی کہ وہ پیدائش کے وقت زندہ جل جائیں، انہوں نے اسے تاریخ کے ہولناک ترین سانحات میں سے ایک قرار دیا۔ رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اگر اخلاقی ذمہ داری کی کوئی حیثیت ہے تو وفاقی سیکرٹری صحت کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس سانحے کو مجرمانہ غفلت کا نتیجہ قرار دیا اور مکمل تحقیقات سمیت ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ صرف وزیر اعظم شہباز شریف کا نوٹس لینا کافی نہیں، ناقص نگہداشت کے باعث 14 ہلاکتوں کو محض نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے زور دیا کہ اس آتشزدگی کو محض ایک حادثہ قرار دے کر مسترد نہیں کیا جانا چاہیے، انہوں نے فوری و غیر جانبدارانہ تحقیقات اور وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ بشریٰ گوہر نے مطالبہ کیا کہ وزیر صحت ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری مستعفی ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالی معاوضہ حقیقی احتساب اور انصاف کا متبادل نہیں ہو سکتا۔





