پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ تین روز کے دوران متعدد انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں بھارت کے اسپانسر کردہ 48 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پبلک سروسز ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے جمعہ کو جاری بیان میں بتایا کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی ان کارروائیوں میں مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں ریاست کی جانب سے "فتنۃ الہندوستان" اور "فتنۃ الخوارج" قرار دیے گئے گروہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو "فتنۃ الخوارج" اور بلوچستان میں متحرک عسکریت پسند گروہوں کو "فتنۃ الہندوستان" قرار دیتی ہے۔
آئی ایس پی آر نے کارروائی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع مستونگ میں سیکیورٹی
فورسز نے ایک آپریشن کے دوران 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے بعد جائے وقوعہ سے بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) برآمد کیے گئے، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے ناکارہ کر دیا
ضلع کوئٹہ کے علاقے شعبان میں فورسز نے چار ٹھکانوں کی نشان دہی کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں 26 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ضلع قلات میں ایک ٹھکانے پر چھاپے کے دوران دو دہشت گرد مارے گئے، اس سے قبل 2 ستمبر کو قلات میں کی گئی ایک اور کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری جانب، ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
بھاگ کے واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ بھاری اسلحے، راکٹ لانچرز، مشین گنوں، اسنائپر رائفلوں اور دستی بموں سے لیس تقریباً 40 دہشت گردوں نے پولیس اسٹیشن، ایک قومی بینک اور اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر پر منظم حملہ کیا۔
شاہد رند نے تصدیق کی کہ پولیس اہلکاروں نے تقریباً دو گھنٹے تک حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور انہیں تھانے پر قبضہ کرنے یا اسلحہ چھیننے سے روکے رکھا۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے بینک میں لگائے گئے آئی ای ڈی کو ناکارہ بنا دیا، جس کے بعد حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ حملے کے دوران دو پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال بلوچستان میں 1,188 سے زائد دہشت گردوں کا خاتمہ خطرے کی شدت اور فوج کی تیاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی خطے کو غیر مستحکم کرنے کے منصوبوں کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔
یہ کارروائیاں صوبے میں عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے دوران سامنے آئی ہیں۔ 31 اگست کو ضلع پشین میں کسٹمز ہاؤس پر حملے کے دوران 10 دہشت گرد اور چھ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی روز چاغی میں ریکو ڈک منصوبے سے منسلک قافلے پر حملے کے بعد 11 دہشت گرد ہلاک جبکہ واشوک میں مزید دو دہشت گرد مارے گئے تھے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق اگست میں بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں سات فیصد اضافہ ہوا۔





