اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے آئل ریفائنریوں کے 6 ارب ڈالر کے پلانٹ اپ گریڈیشن منصوبوں میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو سائیڈ لائن کرتے ہوئے ترمیم شدہ پالیسی کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ ریفائنریز 60 کے بجائے 45 دنوں میں وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے ساتھ معاہدے طے کریں گی۔
کابینہ نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اضافی مراعات (انکریمنٹل انسیٹو) اوگرا کے ایسکرو اکاؤنٹ کے بجائے وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے پاس موجود ریفائنری اپ گریڈ اکاؤنٹس میں جمع کرائی جائیں گی۔
حالیہ اجلاس میں کابینہ کو بتایا گیا کہ ریفائنریوں کی جدید کاری سے سالانہ تقریباً 1 ارب ڈالر کا زر مبادلہ بچنے کی توقع ہے۔
مباحثے کے دوران پٹرولیم ڈویژن نے کابینہ کو بتایا کہ ترمیم شدہ آئل ریفائننگ پالیسی کے بنیادی مقاصد میں فرنس آئل (اضافی ایندھن) کی پیداوار میں کمی، پٹرول اور ڈیزل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور کم قیمت مصنوعات کو کم سے کم کرنا شامل ہے۔
اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ترمیم شدہ پالیسی سے پاکستان کے ریفائنری شعبے میں انتہائی مطلوب غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے میں مدد ملے گی، کیونکہ سعودی عرب پہلے ہی اس شعبے میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کر چکا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے وضاحت کی کہ 28 جولائی 2026ء کو منعقدہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کے اجلاس میں دی گئی ہدایات کے مطابق ترمیم شدہ "پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی برائے اپ گریڈیشن آف ایگزسٹنگ/براؤن فیلڈ ریفائنریز 2023" کے حتمی مسودے میں تمام ترامیم شامل کر لی گئی ہیں۔ مزید نشاندہی کی گئی کہ کسی آزاد فریق ثالث (تھرڈ پارٹی) کنسلٹنٹ کے کردار کی مزید وضاحت کی گئی ہے تاکہ آزادانہ تصدیق یقینی بنائی جا سکے اور ایسے ضوابط قائم کیے جائیں کہ کوئی بھی ڈیفالٹنگ ریفائنری یا اپ گریڈیشن معاہدے پر عملدرآمد میں پیچھے رہ جانے والی ریفائنری اصلاح احوال تک کسی قسم کی مراعات حاصل نہ کر سکے۔
پاکستان میں قائم موجودہ ریفائنریز سالہا سال سے ایک ایسے پالیسی فریم ورک کی منتظر تھیں جو انہیں اربوں ڈالر کے جدید کاری کے منصوبے شروع کرنے کے قابل بنا سکے۔ مجوزہ سرمایہ کاری کا مقصد ریفائنریوں کی ساخت کو بہتر بنانا، ماحول دوست ایندھن تیار کرنا اور پرانی پروسیسنگ ٹیکنالوجیز پر انحصار کم کرنا ہے۔ براؤن فیلڈ پالیسی اصل میں 2023ء میں متعارف کرائی گئی تھی تاہم بعد میں اس میں ترامیم کی گئیں کیونکہ حکومت اور صنعت عملدرآمد اور تجارتی مسائل کو حل کرنے پر کام کر رہے تھے۔





