اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو پنجاب کے علاقے کوٹلی ستیاں جاتے ہوئے پولیس نے حراست میں لے لیا۔
پارٹی نے ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ راجہ، لطاس ستی اور دیگر رہنماؤں کو اس وقت “غیر قانونی طور پر اغوا” کیا گیا جب وہ پی ٹی آئی کے ایک کارکن کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
پی ٹی آئی کے مطابق بعد ازاں انہیں اسلام آباد کے نیلور پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔
پارٹی نے مزید الزام عائد کیا کہ یہ گرفتاریاں اور حراستیں لوگوں کو جنازے میں شرکت سے روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پنجاب اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی سے متعلق سیاسی اور سکیورٹی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
الگ واقعے میں ڈان نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ نارووال میں پولیس نے 150 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی، جن میں زیادہ تر پی ٹی آئی رہنما اور کارکن شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ان افراد پر پولیس پر حملہ، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے دوران ایک اہلکار زخمی ہوا۔
اسلام آباد پولیس نے بھی شہر میں امن و امان اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔ نئے تعینات ہونے والے پولیس چیف نے افسران کو ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنماؤں کی مبینہ حراست کا واقعہ پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے جاری کشیدگی میں ایک اور پیش رفت ہے۔ تاہم راجہ کی حراست سے متعلق پی ٹی آئی کا مؤقف ایک دعویٰ ہے اور ڈان کی رپورٹ میں واقعے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔





