اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعے کے دوران نوزائیدہ بچے کی جان بچانے پر نرس رضیہ نورین کو جمعرات کے روز وزیراعظم ہاؤس بلا کر ان کی شجاعت کو سراہا۔
اس سانحے میں 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئی تھیں، جس پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سخت احتساب کا مطالبہ کیا گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق رضیہ نورین صبح تقریباً 6:39 بجے نرسری میں داخل ہوئیں اور چند سیکنڈز بعد ایک بچے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران رضیہ نورین نے بتایا کہ وہ ادویات تیار کر رہی تھیں کہ کیبنٹ کا دروازہ بند کرتے ہی انہوں نے آگ کے شعلوں کو بھڑکتے دیکھا اور وہ جان کی پرواہ کیے بغیر نرسری کی طرف دوڑیں۔ انہوں نے اپنی ساتھی نرس کو بھی ماؤں اور بچوں کی منتقلی میں مدد کے لیے پکارا تھا، جس کے بعد وہ خود ایک نوائیذہ بچے کو باہر نکال کر ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے سپرد کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ رضیہ نورین کے مطابق جب وہ دوسرے بچے کو بچانے کے لیے دوبارہ اندر جانے لگیں تو ایک دھماکے کے بعد وہاں مکمل اندھیرا چھا گیا۔
وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں "قوم کی بیٹی" قرار دیا اور کہا کہ ان کی یہ کوشش تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک ان پر فخر کرتا ہے اور جس بچے کی جان بچائی گئی اس کی ماں ہمیشہ انہیں دعائیں دے گی۔ رضیہ نورین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دوسروں کے بچوں کی دیکھ بھال کرنا نرسنگ کے پیشہ ورانہ فرائض میں شامل ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ وہ دیگر بچوں کو نہ بچا سکیں۔
وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کی فرض شناسی کے اعتراف میں 1 کروڑ روپے کے نقد انعام کی منظوری دی اور 23 مارچ کو انہیں سول اعزاز "ستارہِ خدمت" عطا کرنے کا اعلان کیا۔ رضیہ نورین نے اس قومی پذیرائی اور اعزاز پر وزیراعظم کا شکر یہ ادا کیا۔





