اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رواں برس کے سربراہی اجلاس میں شرکت اور خطے کی اعلیٰ قیادت سے بات چیت کے لیے پیر کو قرغزستان کے شہر بشکیک کے تین روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔
وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، وزیر اعظم ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ (سی ایچ ایس) کے اجلاس اور ایس سی او پلس سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے، جس میں وہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔ اس تقریب کے دوران پاکستان 2026–2027 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت بھی سنبھالے گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم 'ورلڈ نومڈ گیمز' کی افتتاحی تقریب میں بطورِ خاص مہمان شرکت کریں گے۔
وزیر اعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ شامل ہیں۔
سربراہی اجلاس کے سائیڈ لائنز پر وزیر اعظم کی شریک عالمی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ دورے کے آخری روز وہ قرغز صدر صادر جپاروف کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے جن میں پاک قرغز تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی مواصلاتی رابطوں، تعلیم، سیاحت اور عوامی سطح کے روابط میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ جولائی میں صدر آصف علی زرداری نے قرغزستان کا 4 روزہ سرکاری دورہ کیا تھا، جو 21 برسوں میں کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا اس وسطی ایشیائی ملک کا پہلا دورہ تھا۔ اس سے قبل صدر جپاروف نے دسمبر 2025 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران دونوں ممالک نے 2027–2028 تک دوطرفہ تجارت کو 200 ملین امریکی ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔
اس دورے کے دوران اسلام آباد اور بشکیک نے تجارت، توانائی، کان کنی، زراعت، صحت اور کسٹمز کے شعبوں میں تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ دونوں ممالک نے کاسا 1000 (CASA-1000) بجلی کی ترسیل کے منصوبے، چار ملکی ٹرانزٹ ٹریفک معاہدے (کیو ٹی ٹی اے) کی شاہراہ کو فعال بنانے اور وسطی و جنوبی ایشیائی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی بندرگاہوں کے استعمال کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔





