آبنائے ہرمز میں واقع ایک ایرانی جزیرے پر امریکی افواج کے تازہ ترین حملوں کے بعد پیر کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کشیدگی کے چھٹے ماہ میں داخل ہوتے ہی تہران کی جانب سے بھی تلافی کارروائی کے طور پر جواباً حملے کیے گئے۔
جی ایم ٹی کے مطابق صبح 04:36 بجے تک برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.21 ڈالر یعنی 2.51 فیصد اضافے کے بعد 90.31 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 1.83 ڈالر یعنی 2.19 فیصد بڑھ کر 85.23 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ پیر کو ہونے والے اس اضافے کے باوجود، گزشتہ ہفتے چار فیصد سے زائد کی کمی کے بعد اگست کے مہینے میں دونوں بینچ مارکس کے لیے معمولی ماہانہ نقصان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
قیمتوں میں یہ پیش رفت اتوار کے روز آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرہ لارک پر امریکی افواج کی جانب سے دو ملٹری لانچرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جولائی کے آخر کے بعد ایران کے اندر یہ پہلی تصدیق شدہ براہ راست امریکی فوجی کارروائی ہے۔ جواب میں، ایرانی میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے حوالے سے بتایا کہ تہران نے پیر کے روز اردن میں واقع دو امریکی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
کشیدگی میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سفارتی سطح پر تعطل برقرار ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی ثالث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں کر رہے ہیں تو دوسری طرف تنازع کے حل کے لیے مذاکرات تاحال معطل ہیں۔ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے سے قبل عالمی سطح پر تیل کی کل کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ اس تنگ سمندری گزرگاہ سے ہو کر گزرتا تھا۔
پیر کو جاری ہونے والے شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارتی خوف و خدشات کے باعث ویک اینڈ کے دوران اس آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد کم ہو کر صرف 5 روزانہ رہ گئی۔ اس سے قبل اتوار کے روز یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے تصدیق کی تھی کہ ہفتے کو اس گزرگاہ میں داخل ہونے والے ایک تجارتی آئل ٹینکر پر کسی شئے سے حملہ کیا گیا تھا۔
مارکیٹ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی بی ایس کے ہیڈ آف انرجی ریسرچ سُورو سرکار نے کہا کہ تجزیہ کار مسلسل کشیدگی کے بجائے ایک محدود تصادم کی توقع کر رہے ہیں، تاہم ہر نیا تنازع آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے عمل کو مؤخر کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہو جاتی، خام تیل کی قیمتیں 85 سے 95 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
متعلقہ پالیسی پیش رفت میں، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کے روز کہا کہ واشنگٹن ہفتہ وار بنیادوں پر ایران کے خلاف نئی ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مزید برآں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ وینزویلا کے ساتھ حالیہ معاہدے کے تحت حاصل ہونے والے خام تیل کو امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جو اس وقت گزشتہ 44 سال کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔





