اسلام آباد: پاکستان بروز اتوار یومِ دفاع و شہدا قومی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گا، جس کا مقصد وطنِ عزیز کے شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی اور اندرونی خطرات کے خلاف ملک کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔
یومِ دفاع و شہدا 1965ء کے ان تاریخی واقعات کی یاد میں منایا جاتا ہے جب بھارتی افواج نے رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا تھا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے قوم کی بھرپور حمایت کے ساتھ دشمن کے حملے کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور اس کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔
ملک بھر میں یومِ دفاع و شہدا کی تقریبات کا آغاز علی الصبح توپوں کی سلامی سے ہوگا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں کی سلامی دی جائے گی، جبکہ تمام صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی پیش کی جائے گی۔
نمازِ فجر کے بعد ملک بھر کی مساجد میں خصوصی اجتماعات منعقد ہوں گے، جہاں پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آزادی کے لیے بھی دعائیں مانگی جائیں گی۔
سرکاری نشریاتی ادارہ ریڈیو پاکستان یومِ دفاع و شہدا کے موقع پر دن بھر خصوصی پروگرام نشر کرے گا، جن میں دستاویزی پروگرام، انٹرویوز اور خصوصی فیچرز شامل ہوں گے۔ ان پروگراموں میں ملک کے شہدا کی قربانیوں کو اجاگر کرنے اور وطن کے محافظوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔
یومِ دفاع کی جاری تقریبات کے سلسلے میں پشاور کے تعلیمی اداروں میں بھی پاک فوج کے زیرِ اہتمام مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ طلبہ نے ملی نغموں، ٹیبلو اور تقریری مقابلوں میں حصہ لیا اور پاک فوج کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وطن سے اپنی محبت، جذبۂ حب الوطنی اور ملکی دفاع کے عزم کا اظہار کیا۔





