اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی نمو چار فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے۔
پیر کے روز اسلام آباد میں ایگزِم بینک کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ملکی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان استحکام کے مرحلے سے پائیدار نمو کی جانب کامیابی سے گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک نے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 3.7 فیصد کی نمو حاصل کی تھی۔
محمد اورنگزیب نے بنیادی معاشی اشاریوں میں اہم تحسن کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان گزشتہ تین سال سے پرائمری مالیاتی سرپلس برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی حاصل کیا گیا۔
ملک میں معاشی عدم استحکام اور اتار چڑھاؤ کے تاریخی سلسلے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ان بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں کی وجہ در آمدات پر شدید انحصار کو قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے لیے اصل چیلنج صرف معاشی نمو کا آغاز کرنا نہیں بلکہ اس پیش رفت کو طویل المدتی بنیادوں پر پائیدار بنانا ہے۔
طویل المدتی معاشی استحکام کے حصول کے لیے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت برآمدات پر مبنی نمو کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سرکاری پالیسی اور مالیاتی منصوبہ بندی دستیاب گنجائش کا استعمال کرتے ہوئے معاشی تحرک پیدا کرنے اور قومی برآمدی بنیاد کو وسعت دینے پر مرکوز ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق موجودہ وفاقی بجٹ میں برآمدات کو فروغ دینے کے لیے واضح سمت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا گیا ہے۔
مزید برآں، محمد اورنگزیب نے پاکستان کی برآمدات میں تنوع لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (ایس ایم ایز) کو رعایتی مالیاتی سہولیات فراہم کرنے کی حمایت کی تاکہ وسیع تر معاشی شمولیت اور برآمدی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔





