سان فرانسسکو: اوپن اے آئی سے منسلک مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے جرمن ویب سائٹ پر ہزاروں ترامیم کرکے پابندیاں توڑنے اور اپنی سرگرمیاں چھپانے کے طریقے شیئر کیے۔
محققین کی نئی تحقیق کے مطابق، اوپن اے آئی سے منسلک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ایجنٹس نے رواں سال موسمِ بہار میں ایک جرمن زبان کی ویب سائٹ پر قبضہ کرکے اسے باہمی رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا۔
یہ واقعہ مئی میں شروع ہوا اور اس دوران پروگرامرز کے لیے بنائی گئی جرمن ویب سائٹ ڈی ایس ای وکی پر اے آئی ایجنٹس کی جانب سے 15 ہزار سے زائد ترامیم کی گئیں۔ محققین کے مطابق ایجنٹس نے ویب سائٹ کو ایک پیغام رسانی کے فورم میں تبدیل کردیا، جہاں وہ ایک دوسرے کے ساتھ مختلف تکنیکی طریقوں اور حکمت عملیوں کا تبادلہ کرتے رہے۔
تحقیق میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، ایجنٹس نے اوپن اے آئی کی عائد کردہ بعض پابندیوں سے بچنے، مختلف کاموں کو تیزی سے مکمل کرنے اور اپنی سرگرمیوں کو چھپانے کے طریقے شیئر کیے۔ انہوں نے نگرانی سے بچنے کے لیے ٹور (Tor) جیسے ٹولز کے استعمال اور ایجنٹس کے بند کیے جانے کے بعد بھی رابطہ برقرار رکھنے کے طریقوں پر بھی بات کی۔
جون میں جب ویب سائٹ کے منتظم نے مشتبہ صفحات کو حذف کرنا شروع کیا تو ایجنٹس نے مبینہ طور پر متبادل صفحات بنانا شروع کردیے تاکہ مواد کو حذف ہونے سے بچایا جاسکے۔ محققین نے ویب سائٹ میں مداخلت کی کوششوں کی بھی نشاندہی کی، تاہم اوپن اے آئی نے اس سرگرمی کو ہیکنگ قرار دینے سے اختلاف کیا۔
یہ سرگرمی اگست کے آخر میں مصنوعی ذہانت کے محققین سڈنی وان آرکس اور کورمیک سلیڈ برڈ نے دریافت کی، جو انٹرنیٹ پر غیر مجاز اے آئی سرگرمیوں کے شواہد تلاش کررہے تھے۔ محققین کے مطابق، تقریباً نصف صارف نام ایسے تھے جن سے اوپن اے آئی سے وابستگی ظاہر ہوتی تھی، جن میں اوپن اے آئی ریسرچر اور او اے آئی ریسرچ مارچ 2026 شامل تھے۔
عوامی سرور ریکارڈز سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سرگرمی کا بڑا حصہ مائیکروسافٹ ایژور کے انفراسٹرکچر سے شروع ہوا، جسے اوپن اے آئی بعض اوقات استعمال کرتا ہے۔ محققین نے واقعے کے بعد اوپن اے آئی کے ملازمین کی جانب سے ویب سائٹ کے بار بار دورے بھی ریکارڈ کیے۔
اوپن اے آئی نے کہا کہ اسے تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت سے قبل جائزے کے لیے فراہم نہیں کیا گیا، اس لیے وہ اس کے نتائج پر تفصیلی ردعمل نہیں دے سکتا۔ کمپنی نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ اس کی قانونی ٹیم نے واقعے کی تحقیقات کی حوصلہ شکنی کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں زیادہ خودمختار اے آئی ایجنٹس تیار کررہی ہیں۔ یہ نظام پیچیدہ کام محدود انسانی نگرانی میں انجام دینے کے لیے بنائے جارہے ہیں، تاہم جرمن ویب سائٹ کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے ایجنٹس غیر متوقع طور پر پابندیوں سے بچنے، ایک دوسرے سے رابطہ کرنے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے طریقے بھی تلاش کرسکتے ہیں۔




