اسلام آباد: پاکستان میں تیل و گیس دریافت اور تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) نے امریکی توانائی اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی بیکر ہیوز کے ساتھ باضابطہ طور پر ایک متعدد سالہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں او جی ڈی سی ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوئی، جس میں اہم سرکاری حکام اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی، جن میں اسپیشل سیکریٹری پیٹرولیم مرزا نصیر الدین مسعود احمد اور امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر شامل تھیں۔ یہ معاہدہ دونوں کمپنیوں کے درمیان دہائیوں سے جاری اس تعاون کا تسلسل ہے جس کا مقصد فیلڈ آپریشنز کو جدید بنانا اور پاکستان کے ملکی ذخائر سے ہائیڈرو کاربن کے حصول کو زیادہ سے زیادہ بنانا ہے۔
معاہدے کے تحت، بیکر ہیوز اپنا خصوصی 'میچور ایسٹس سلوشنز' (ایم اے ایس) فریم ورک استعمال کرے گی تاکہ او جی ڈی سی کو پیداوار کے اہم مواقع کی نشاندہی کرنے اور قدرتی طور پر کم ہوتے ہوئے ذخائر والے فیلڈز میں درپیش آپریشنل چیلنجز پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔ ازسرنو ترقیاتی پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں اہم پرانے فیلڈز کے 120 سے زائد کنوؤں کو نشانہ بنایا جائے گا، جن میں خاص طور پر ٹنڈو عالم آئل کمپلیکس اور پیرکوہ فیلڈ شامل ہیں۔ بیکر ہیوز او جی ڈی سی کے ساتھ براہِ راست کام کرے گی تاکہ فنی حل کو مخصوص پیداواری اہداف اور معاشی مقاصد سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
اس حکمتِ عملی میں تشخیصی جائزہ لینے کے بعد جدت انگیز ڈیجیٹل اور آئل فیلڈ ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے براہِ راست عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ آپریشنز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس کیمیکل انجیکشن سسٹم شامل ہوں گے جو کنوؤں اور پائپ لائنوں میں بہاؤ کے مسائل حل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، جب کہ متاثرہ یا بند کنوؤں سے دوبارہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کے 'ورک اوورز' بھی کیے جائیں گے۔ مسلسل نگرانی اور مجموعی بحالی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مربوط ڈیجیٹل حل بھی شامل کیے جائیں گے۔
ان فیلڈز کی بحالی او جی ڈی سی کی پیداواری بہتری کی وسیع تر مہم اور پاکستان کے توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کے ہدف کے لیے انتہائی اہم ہے۔ او جی ڈی سی اس وقت 18 اہم پرانے اثاثوں کا انتظام سنبھال رہی ہے، جن میں 12 آئل فیلڈز اور چھ گیس اور کنڈنسیٹ فیلڈز شامل ہیں۔ کمپنی کی مجموعی بنیادی پیداوار روزانہ 40,000 بیرل سے زائد خام تیل، 815 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ قدرتی گیس، 780 میٹرک ٹن ایل پی جی، اور 80 میٹرک ٹن سلفر پر مشتمل ہے۔ ان اثاثوں سے مقامی سپلائی بڑھنے سے توانائی کی مہنگی غیر ملکی درامدات پر ملک کا انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔
کمپنی کی قیادت اور سرکاری نمائندوں نے اس معاہدے کو دوطرفہ تجارتی اور توانائی کے تعلقات کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی معاشی استحکام کی بنیاد ہے، اور یہ کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھاتا ہے۔ او جی ڈی سی کے ایم ڈی اور سی ای او احمد حیات لک نے غیر استعمال شدہ ذخائر کو موثر طریقے سے کارآمد بنانے کی اس منصوبے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا، جب کہ بیکر ہیوز کی قیادت نے پاکستان کی توانائی کی صورت حال کو بدلنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں اس شراکت داری کے کردار کو اجاگر کیا۔





