اسلام آباد: وزارت مواصلات کے اسپیشل سیکرٹری علی شیر محسود نے منگل کے روز تسلیم کیا کہ ناقص منصوبہ بندی ملک بھر میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اراکین نے سیکرٹری مواصلات سے اہم شاہراہوں کی زبوں حالی کی شکایت کی اور سڑکوں کے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔
این ایچ اے کے سال 25-2024 کے آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے لیے بلایا گیا اجلاس 90 منٹ طویل اور کٹھن نشست کا روپ دھار گیا۔ اراکین نے پہلے 90 منٹ این ایچ اے کے امور میں بہتری کے لیے سفارشات پر غور کرنے میں گزارے، جس کے بعد آڈٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی جانب توجہ دی گئی۔
پہلے آڈٹ اعتراض میں نشاندہی کی گئی کہ جگلوٹ سکردو شاہراہ کے 167 کلومیٹر طویل ٹکڑے کی مرمت اور اپ گریڈیشن کے لیے فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو 4 ارب 30 کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔
محسود نے جگلوٹ سکردو روڈ کو ”کوئی عام سڑک نہیں“ قرار دیا۔
تاخیر کے حوالے سے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”اس شاہراہ پر 16 ایسے مقامات ہیں جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے۔ گزشتہ سال لینڈ سلائیڈنگ کے دو واقعات سے سڑک کو نقصان پہنچا، جبکہ گزشتہ ماہ مزید دو واقعات کے باعث اس منصوبے میں تاخیر ہوئی، جسے اصل میں نومبر 2022 میں مکمل ہونا تھا۔“
جب اراکین نے شکایت کی کہ منصوبوں میں تاخیر ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، تو محسود نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ہائی وے ڈیزائننگ میں صلاحیتوں کی کمی کو دور کرنے کے لیے ماہرین کی ٹیم بھرتی کر کے پلاننگ ونگ کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
ایک اور آڈٹ اعتراض ناقص ڈیزائن سے متعلق تھا جس کے باعث کھلے مقابلے کے بغیر ویری ایشن آرڈر کے ذریعے اضافی کام کرایا گیا، جس سے 4 ارب 8 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
آڈٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ”انڈس ہائی وے (این-55) کرک تا کوہاٹ کی کشادگی اور بہتری“ کے اصل منصوبے میں موجودہ اسپینہ موڑ سمیت تقریباً 11.8 کلومیٹر طویل چار لین کے بائی پاس کی تعمیر شامل نہیں تھی۔
ایک اور آڈٹ پیراگراف چترال کیلاش ویلی روڈ کی تعمیر، بحالی اور کشادگی کے سلسلے میں محکمہ خزانہ کی منظوری کے بغیر 1 ارب 86 کروڑ 90 لاکھ روپے کی غیر قانونی ادائیگی سے متعلق تھا۔
آڈٹ میں بتایا گیا کہ این ایچ اے نے عارضی کاموں کے لیے قیمتوں میں اضافے (ایسکلیشن) مد میں عبوری ادائیگیاں کی تھیں، جس کے نتیجے میں مجاز اتھارٹی سے منظوری لیے بغیر ٹھیکیدار کو 1 ارب 86 کروڑ 90 لاکھ روپے کی غیر قانونی ادائیگی کی گئی۔
آڈیٹر جنرل کے دفتر نے این ایچ اے کو اس منصوبے میں ملوث کنسلٹنٹ کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت کی اور مناسب نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کے ڈیزائن ونگ کو مضبوط بنانے اور اس کے نتائج سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔





