اسلام آباد، 25 اگست: ویمنز پارلیمانی کاکس (ڈبلیو پی سی) کی قانونی اصلاحات اور قانون سازی کی جانچ پڑتال سے متعلق ذیلی کمیٹی کا اجلاس گذشتہ روز 24 اگست کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف قانونی تحفظ کا جائزہ لیا گیا۔ راولپنڈی میں سسرال کے گھر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کی سابق ملازمہ حنا جاوید کے قتل کے فوراً بعد منعقد ہونے کی وجہ سے اس اجلاس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ملازمت کی جگہوں پر خواتین کے تحفظ سے متعلق قانونی فریم ورک کے بارے میں وفاقی محتسب برائے تحفظِ ہراسانی (فوسپاہ) کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ ذیلی کمیٹی نے سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں میں انتظامی نگرانی اور عملدرآمد کے خلا کو پر کرنے کے لیے نفاذ کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔
ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرپرسن اور رکن قومی اسمبلی صوفیہ سعید شاہ نے کی۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ، اختر بی بی، عائشہ نذیر، مسرت آصف خواجہ، سیدہ نوشین افتخار، شائستہ خان، سیدہ شہلا رضا اور صبا صادق نے شرکت کی۔
ذیلی کمیٹی کا یہ اجلاس کاکس کی جانب سے مربوط کوششوں کا حصہ تھا۔ اس سلسلے میں ویمنز پارلیمانی کاکس کے ایک وفد نے ادارہ جاتی نگرانی پر تبادلہ خیال کے لیے قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کا دورہ بھی کیا، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حنا جاوید کے قتل کے معاملے کو رپورٹ کی تیاری کے لیے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھیج دیا ہے۔





