نیوز ڈیسک: نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 165 افراد ہلاک جبکہ مکانات، گاڑیاں اور دیہات کے کئی حصے بہہ گئے ہیں، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں ایک ہزار سے زائد لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
نیپالی پولیس کے مطابق بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں میں سیلابی ریلے اور ملبے کی زد میں آنے سے 162 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ دوسری جانب تبت میں چینی سرکاری میڈیا نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ 260 غیر ملکیوں سمیت 558 افراد لاپتا ہیں۔
نیپال کی وزارتِ سیاحت کے مطابق آفت کے ایک روز بعد بھی 393 غیر ملکیوں سمیت 468 سیاحوں کا کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔ جن افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ان میں بھارت، آسٹریلیا، برطانیہ، ملائیشیا، نیدرلینڈز، پرتگال، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا اور امریکہ کے شہری شامل ہیں۔
یہ تباہی بدھ کی صبح آئی، چینی سرحد کی جانب سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ بھاگ رہے ہیں جبکہ کیچڑ اور ملبے کا ایک تیز ریلا کثیر المنزلہ عمارت کو نگل رہا ہے۔ اس دوران گاڑیاں اور بسیں بھی پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے کہا ہے کہ اس کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ابتدائی طور پر رپورٹ ہونے والے 4.4 شدت کے زلزلے کے بجائے گلیشیئر ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کی وجہ سے پیش آیا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیپال چین سرحد کے قریب دریا کے اوپری حصے میں بندش کی وجہ سے ایک اور سیلابی ریلا آ سکتا ہے۔
رسووا نیپال کا پہلا متاثرہ ضلع تھا، جس کے بعد سیلابی پانی نوواکوٹ اور چٹوان سمیت مزید چھ اضلاع تک پھیل گیا۔ امدادی ٹیمیں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور خطرے سے دوچار علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹروں، کشتیوں اور سنفر ڈاگز کا استعمال کر رہی ہیں۔
ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کا کہنا ہے کہ وہ کمبل، ابتدائی طبی امدادی کٹس، سٹریچر اور باڈی بیگز پر مشتمل ہنگامی امدادی سامان روانہ کر رہی ہیں۔
سیلاب سے سیابرو بیسی بھی متاثر ہوا ہے جو کہ سیاحتی پیدل راستوں کا اہم باب اور کوہِ کیلاش کی طرف جانے والے زائرین کا راستہ ہے۔
تبت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید مٹی کے تودے گرنے کے خطرے کے پیشِ نظر شیگاتسے میں سڑکیں اب بھی غیر محفوظ ہیں۔





