نیویارک: میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ نے فیشن ڈیزائنر جان گالیانو کے اعزاز میں 2027 کے لیے طے شدہ نمائش کو ان کے ماضی کے مبینہ نسل پرستانہ جملوں پر شدید ردعمل کے بعد منسوخ کر دیا ہے۔
کاسٹیوم انسٹی ٹیوٹ کی نمائش 'جان گالیانو: ہورائزنز' کا افتتاح سالانہ میٹ گالا کے موقع پر مئی 2027 میں ہونا تھا۔ تاہم، میوزیم اور گالیانو نے 31 اگست کو اعلان کیا کہ یہ منصوبہ طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے نہیں بڑھے گا۔ میٹ میوزیم کا کہنا ہے کہ متبادل نمائش اور 2027 کے گالا کی تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
اس نمائش میں جان گالیانو کے چار دہائیوں سے زائد طویل کیریئر کا احاطہ کیا جانا تھا، جس میں ژیوانشی، کرسچن ڈیور اور میسن مارجیلا کے ساتھ ان کا کام بھی شامل تھا۔
یہ نمائش فیشن کی دنیا کے بااثر ترین ڈیزائنرز میں سے ایک کے فن کا ایک بڑا جائزہ قرار دی جا رہی تھی، اور یہ کاسٹیوم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کسی بھی حیات ڈیزائنر کے لیے کی جانے والی محض تیسری نمائش ہوتی، تاہم یہ منصوبہ جلد ہی متنازع ہو گیا۔
2011 میں پیرس میں نسل پرستانہ اور سامیت مخالف گفتگو کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد گالیانو کا کیریئر شدید متاثر ہوا تھا۔ بعد ازاں فرانس کی ایک عدالت نے انہیں عوام میں نسل پرستانہ جملے ادا کرنے کا مجرم بھی قرار دیا تھا۔
اگرچہ ڈیزائنر نے معافی مانگ لی تھی اور بالآخر فیشن کی دنیا میں واپس بھی آ گئے تھے، لیکن میٹ کی اس مجوزہ نمائش نے یہ بحث دوبارہ چھیڑ دی کہ آیا دنیا کے سرکردہ ثقافتی اداروں میں سے ایک کو ان کی تخلیقی میراث کا جشن منانا چاہیے یا نہیں۔
نقادوں نے اس مجوزہ نمائش اور گالا کے وقت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا، کیونکہ اس کی تاریخیں ہولوکاسٹ کی یادگار کے دن کے قریب آ رہی تھیں۔
گالیانو نے کہا کہ انہوں نے نمائش سے متعلق تحفظات پر غور کیا اور اسے منسوخ کرنے کے فیصلے کی حمایت کی۔ ان کے مطابق یہ قدم ان کی ماضی کی حرکات سے متاثر ہونے والی برادریوں کے احترام میں اٹھایا گیا ہے۔
میٹ کے ڈائریکٹر میکس ہولین اور کاسٹیوم انسٹی ٹیوٹ کے کیوریٹر اینڈریو بولٹن نے اس فیصلے کی توثیق کی، جبکہ میٹ گالا کے پیچھے اہم کردار ادا کرنے والی ووگ کی ایڈیٹر ان چیف اینا ونٹور نے بھی گالیانو کے موقف کی حمایت کی ہے۔
نمائش کی منسوخی کا مطلب یہ نہیں کہ میٹ گالا ختم کیا جا رہا ہے، بلکہ میوزیم 2027 کی تقریب کے لیے نئی نمائش اور تھیم کا اعلان کرے گا۔
یہ فیصلہ اس دیرینہ بحث میں ایک نیا موڑ ہے کہ میوزیمز اور ثقافتی اداروں کو ان نامور فنکاروں اور ڈیزائنرز کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے جن کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کے ساتھ سنگین ذاتی تنازعات بھی جڑے ہوتے ہیں۔





