ہالی ووڈ: امریکی ریپر میکل مور (جن کا اصل نام بین ہیگرٹی ہے) نے یورپ بھر میں اپنے مستقل "فری پیلسٹائن" ارینا ٹور کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ قدم ایڈ شیران کے شمالی امریکہ کے دورے میں معاون فنکار (اوپننگ ایکٹ) کی حیثیت سے انہیں ہٹائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں انہوں نے لائیو پرفارمنس کے دوران فلسطین کے حق میں بیانات دیے اور جنگ کے مناظر دکھائے تھے۔
سوشل میڈیا پر مزاحیہ انداز میں یہ کہتے ہوئے کہ "ان کا شیڈول کچھ فارغ ہو گیا ہے"، گرامی ایوارڈ یافتہ فنکار نے اکتوبر کے آخر میں یورپ کے تین بڑے اریناز میں اپنے شو کی تصدیق کی: 26 اکتوبر کو ڈبلن کے 3ارینا، 29 اکتوبر کو پیرس کے ایکور ارینا، اور 30 اکتوبر کو لندن کے OVO ارینا ویمبلی میں شوز کا انعقاد کیا جائے گا۔ میکل مور نے اعلان کیا کہ کنسرٹس سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی غوہ اور ویسٹ بینک میں فلسطینی برادریوں کی مدد کرنے والی انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں کو عطیہ کی جائے گی۔
یہ تنازع رواں ماہ کے اوائل میں اس وقت شروع ہوا جب ٹور کے پروموٹر 'میسینا ٹورنگ گروپ' نے تصدیق کی کہ میکل مور اب ایڈ شیران کے باقی ماندہ امریکی شوز میں شامل نہیں ہوں گے۔ یہ فیصلہ اسٹیڈیم کے مالکان اور کارپوریٹ سٹیک ہولڈرز کے اعتراضات کے بعد سامنے آیا، جنہیں میکل مور کے اسٹیج پر دیے گئے بیانات اور بار بار "فری پیلسٹائن" کے نعروں پر تشویش تھی۔
اس برطرفی نے لائیو میوزک انڈسٹری میں ردِعمل کی ایک نئی لہر پیدا کر دی، جہاں فنیاس (Finneas) سمیت کئی دیگر معاون فنکاروں اور ایڈ شیران کے بینڈ نے میکل مور کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے شوز سے علیحدگی اختیار کر لی۔ میکل مور نے اس معاملے کو آزادیٔ اظہارِ رائے اور عوامی مقامات پر کارپوریٹ کنٹرول کے ایک بڑے مسئلے کے طور پر پیش کیا، اور آرٹسٹس کے پلیٹ فارمز پر وینیو مالکان اور پروموٹرز کے اثر و رسوخ پر سوال اٹھائے۔
فلاڈیلفیا میں ایک کنسرٹ کے دوران اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایڈ شیران نے وضاحت کی کہ میکل مور کو ٹور سے ہٹانے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ پروموٹرز اور اسٹیڈیم انتظامیہ کا تھا۔ اس ہنگامہ آرائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، ایڈ شیران نے غزہ میں انسانی نقصان کو "ناقابلِ قبول" قرار دیا اور کہا کہ عالمی تنازعات کے دوران فنکاروں پر پیدا ہونے والے پیچیدہ دباؤ کو سمجھنا ضروری ہے۔
میکل مور نے تصدیق کی ہے کہ لوجسٹکس مکمل ہونے کے بعد آنے والے ہفتوں میں امریکہ کے دیگر شہروں کے شوز اور دیگر مہمان فنکاروں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ ان کا موقف برقرار ہے کہ عوامی شخصیات کو اہم عالمی مسائل پر آواز اٹھانے کے لیے اپنے پلیٹ فارمز کا استعمال کرنا چاہیے۔





