گڈانسک: شمالی پولینڈ کے شہر گڈانسک میں ایک تیز رفتار مسافر ٹرین کی ریلوے کراسنگ پر پھنسے ہوئے لاری ٹریلر سے ٹکر کے بعد ریل کا ایک بڑا اور تباہ کن حادثہ بال بال ٹل گیا۔ سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج میں اس لمحے کو محفوظ کیا گیا ہے جب گڈینیہ گلاونا سے زیلونا گورا جانے والی 'پی کے پی انٹر سٹی' (PKP Intercity) ٹرین جس میں تقریباً 250 سے 300 مسافر سوار تھے تیز رفتاری سے اس بھاری گاڑی سے جا ٹکرائی۔
نیٹ ورک آپریٹر 'پی کے پی پولش ریلوے لائنز' (PLK) کے مطابق، بوسنیا و ہرزیگووینا کا شہری، 42 سالہ لاری ڈرائیور اس وقت ریل کی پٹریوں پر گاڑی لے آیا جب خودکار بیریئر نیچے گر رہے تھے۔ موقع پر موجود عینی شاہدین نے ڈرائیور کو پٹری خالی کرنے کے لیے بیریئر توڑ کر گاڑی نکالنے کے بے تابانہ اشارے بھی کیے، لیکن اس نے گاڑی آگے پیچھے کرنے کی کوشش کی جس سے ٹریلر پٹریوں کے درمیان ہی پھنس کر رہ گیا۔
اگرچہ تمام مسافر اور لاری ڈرائیور جسمانی چوٹوں سے محفوظ رہے، تاہم ٹرین ڈرائیور کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس ٹکر کے باعث ٹچیو–گڈانسک لائن پر علاقائی ریل سروسز شدید متاثر ہوئیں۔ ریلوے حکام کی رپورٹ کے مطابق 279 ٹرینوں کو مجموعی طور پر 17,500 منٹ سے زائد کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ درجنوں ٹرینیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی گئیں۔ انجن، متاثرہ پٹریوں اور کراسنگ کے نظام کی مرمت کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 1,40,000 زلوٹی (27,500 جی بی پی) لگایا گیا ہے، جسے پی ایل کے (PLK) دیوانی مقدمے کے ذریعے وصول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
پولش حکام نے لاری ڈرائیور پر زمینی نقل و حمل کے بڑے حادثے کا فوری خطرہ پیدا کرنے کے الزام میں باضابطہ فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ اس نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے، تاہم جرم ثابت ہونے پر اسے تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔





