ٹوکیو: جاپان مریخ کے دو چاندوں میں سے ایک 'فوبوس' پر ایک اہم مشن بھیجنے کی تیاریاں کر رہا ہے تاکہ وہاں سے نمونے اکٹھے کیے جا سکیں جو نظامِ مریخ کے آغاز سے متعلق دیرینہ سوالات کے جوابات فراہم کر سکتے ہیں۔
جاپان ایرواسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کا 'مارشین مونز ایکسپلوریشن' (ایم ایم ایکس) مشن 20 اکتوبر 2026ء کو تانیگاشیما اسپیس سینٹر سے روانہ کیا جائے گا۔ کامیابی کی صورت میں یہ مریخ کے کسی چاند سے زمین پر نمونے واپس لانے والا پہلا مشن بن جائے گا۔
ایم ایم ایکس مشن کو مریخ تک پہنچنے میں تقریباً ایک سال لگے گا، جس کے بعد وہاں تین سالہ تحقیق کا آغاز ہوگا اور پھر واپسی کا سفر شروع کیا جائے گا۔ سائنس دانوں کو توقع ہے کہ یہ نمونے 2031ء تک زمین پر پہنچ جائیں گے۔
اس مشن کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ فوبوس اور ڈیموس کیسے وجود میں آئے۔ ایک نظریے کے مطابق یہ چاند مریخ پر کسی بڑے تصادم کے نتیجے میں خلا میں بکھرنے والے مواد سے بنے، جبکہ دوسرا نظریہ یہ پیش کرتا ہے کہ یہ دراصل ایسے سیارچے (ایسٹرائڈز) تھے جنہیں مریخ کی کشش ثقل نے جکڑ لیا تھا۔
فوبوس کی خصوصیات پانی اور کاربن سے بھرپور بعض سیارچوں سے ملتی جلتی ہیں، جبکہ مریخ کے گرد اس کا تقریباً گول مدار اس نظریے کو تقویت دیتا ہے کہ اس کی پیدائش اسی سیارے سے جڑی ہے۔ اس کی سطح سے براہِ راست حاصل کیے گئے نمونے اس بحث کو حل کرنے میں اہم شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ مشن انجینئرنگ کے لحاظ سے بھی سخت چیلنجز کا حامل ہے۔ فوبوس کا رداس (ریڈیئس) صرف 11 کلومیٹر کے قریب ہے اور اس کی کشش ثقل انتہائی کمزور ہے، جس کی وجہ سے اترنا اور پرواز بھرنا انتہائی دشوار ہے۔ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطے میں 20 منٹ تک کی تاخیر ہو سکتی ہے، اس لیے ایم ایم ایکس زیادہ تر خودکار نیویگیشن پر انحصار کرے گا۔
فرانسیسی اور جرمن خلائی ایجنسیوں کا مشترکہ تیار کردہ ایک روور سب سے پہلے تقریباً 100 دن تک سطح کا جائزہ لے گا تاکہ اترنے کے لیے مناسب جگہ کی نشان دہی کی جا سکے۔ اس کے بعد ایم ایم ایکس روبوٹک بازو اور دیگر آلات کی مدد سے چاند سے مواد اکٹھا کرے گا۔
جمع کیے جانے والے کچھ نمونوں میں مریخ کا اپنا مواد بھی شامل ہو سکتا ہے، جو لاکھوں سال کے دوران شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے خلا میں اڑ کر وہاں پہنچا تھا۔
تقریباً 34 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ اس مشن کا مقصد ایسی ٹیکنالوجیز کی آزمائش بھی ہے جو مستقبل میں مریخ سے نمونے لانے اور اس کی مزید گہرائی سے تحقیق میں مددگار ثابت ہو سکیں۔
یہ مشن 28 سال بعد مریخ کی تحقیق میں جاپان کی واپسی کی علامت ہے اور اس سے سائنس دانوں کو نظامِ مریخ کی تاریخ اور ساخت کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم معلومات اور مواد میسر آ سکتا ہے۔




