یروشلم — 27 اگست 2026ء: فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں پر کئی یورپی حکومتوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بیچ، اسرائیل غزہ کے جنگ بعد کے لائحہ عمل کی نگرانی کرنے والے امریکی قیادت والے کثیر القومی رابطہ مرکز سے برطانوی حکام کو ہٹانے پر غور کر رہا ہے۔
معاملے سے آگاہ حکام نے دی یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ حالیہ مہینوں کے دوران برطانیہ کے رویے کے پیش نظر اسے 'انٹرنیشنل غزہ سپورٹ سینٹر' (آئی جی ایس سی) سے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ فنانشل ٹائمز نے الگ سے رپورٹ کیا کہ جرمنی اور اٹلی کو بھی اسی قسم کی کارروائی کا سامنا کرنا پر سکتا ہے۔
آئی جی ایس سی، جسے پہلے سویلین ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، جنوبی اسرائیل کے علاقے کریات گات میں واقع ہے۔ امریکی عسکری حکام کی قیادت میں کام کرنے والا یہ مرکز تقریباً 50 ممالک اور تنظیموں کے اسرائیلی، امریکی اور بین الاقوامی عملے کو یکجا کرتا ہے تاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی عملداری اور امدادی و بحالی کی کوششوں میں تعاون فراہم کیا جا سکے۔
برطانیہ کا اس مرکز میں امریکہ کے بعد دوسرا بڑا وفد ہے، جہاں ایک برطانوی افسر فورس کی کمانڈ کرنے والے امریکی جنرل کے نائب کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ بے دخلی کا یہ ممکنہ اقدام اسرائیل اور یورپی حکومتوں کے درمیان سفارتی تنازعات کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل نیدرلینڈز کی جانب سے مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں کی اسرائیلی مصنوعات کی تجارت پر پابندی کا قانون منظور کیے جانے کے بعد اسرائیل نے ہالینڈ کے نمائندوں کو اس مرکز سے ہٹا دیا تھا۔
اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور دیگر 9 ممالک نے حال ہی میں مغربی کنارے کے ای ون (E1) علاقے میں اسرائیل کے تعمیراتی منصوبوں کی مذمت کی تھی، جس میں لندن نے خبردار کیا تھا کہ اس کے نتیجے میں ہدف پر مبنی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، 100 سے زائد سابق فرانسیسی اور برطانوی سفارت کاروں نے بھی حال ہی میں ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں اسرائیل پر غزہ کو منظم انداز میں تباہ کرنے اور اس کی آبادی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
برطانیہ اور فرانس نے 2025ء میں ریاستِ فلسطین کو تسلیم کر لیا تھا، جس سے اسرائیلی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ برطرفیوں اور اخراج کی ان خبروں سے غزہ کے جنگ بعد کے نازک مرحلے پر کثیر القومی رابطہ کاری کی کوششیں پیچیدہ ہو سکتی ہیں، جب کہ اس سے اسرائیل اور کئی یورپی اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی خلیج بھی نمایاں ہوتی ہے۔





