تہران: ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی طیارہ بردار جہاز اور بحری فوج کے تباہ کن بیڑے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس سے دونوں جنگی جہازوں کو نقصان پہنچا اور وہ علاقے سے پیچھے ہٹ گئے۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ دونوں جہاز حملے سے محفوظ رہے اور کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا (IRNA) پر جاری بیان میں پاسداران انقلاب نے بتایا کہ اس کی ایرواسپیس فورس نے دونوں امریکی جنگی جہازوں پر میزائل داغے۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ جہاز ایرانی بحری جہازوں کو ہراساں کرنے اور بحری ناکابندی میں ملوث تھے۔
آئی آر جی سی کے مطابق دونوں جنگی جہاز نقصان پہنچنے کے بعد "تنازع کے علاقے" سے چلے گئے۔ پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی فوجی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا اعتراف کیا ہے، جسے اس نے اس کارروائی کی تصدیق قرار دیا۔
تاہم، سینٹ کام نے کہا ہے کہ ایران نے علاقائی پانیوں میں گشت کرنے والے امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کی طرف بیلسٹک میزائل داغے تھے لیکن دونوں جہاز حملے سے بچ نکلے۔ امریکی کمانڈ کے مطابق اس واقعے میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا ہے۔
آئی آر جی سی نے یہ بھی بتایا کہ اس کی بحریہ نے ایک خودکار (ریموٹ سے چلنے والے) امریکی فوجی جہاز پر حملہ کیا جو تنگہ ہرمز کے تحفظ شدہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاہم اس حملے کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ جہاز کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔
پاسداران انقلاب نے تہران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ تنگہ ہرمز ایران کے انتظام کے تحت ہے اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ خطے سے نکل جائے۔
اس سے قبل ہفتے کے روز، آئی آر جی سی کی بحریہ نے کہا تھا کہ اس نے تنگہ ہرمز میں تیل کے تین ٹینکرز اور دیگر مقامات پر امریکہ سے منسلک تین جہازوں کو نشانہ بنایا، اور اس اقدام کو ایرانی ٹینکرز پر امریکی حملوں کا جوابی عمل قرار دیا تھا۔ سینٹ کام نے بتایا کہ بعد میں امریکی فورسز نے خام تیل لے جانے والے تین ایرانی ٹینکرز پر جوابی حملہ کیا۔
حملوں کا یہ تازہ ترین تبادلہ فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جاری کشیدگی کے دوران ہوا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔





