تہران: میئر علیرضا زاکانی کا کہنا ہے کہ ایران کا مستقبل امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت اور داخلی اصلاحات سے وابستہ ہے۔ ممتاز قدامت پسند شخصیت زاکانی نے کہا کہ ایران میں تین مکاتب فکر موجود ہیں: واشنگٹن سے سمجھوتے کے لیے رعایتیں دینا، مزاحمت کے تقاضے پورے کیے بغیر محض مزاحمت کرنا، یا پھر مزاحمت کے ساتھ ساتھ اندرونی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ”مزاحمت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنے اندرونی مسائل سے آنکھیں چرا لیں۔ دشمن کے مقابلے میں ڈٹنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ملک کی اندرونی اصلاح کرنا ہوگی اور اسے خودکفالت و استحکام کی جانب لے جانا ہوگا۔“





