اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اس سال یکم اکتوبر تک وزارتِ توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدوں (یو اے) پر عملدرآمد میں ناکام رہنے والی آئل ریفائنریوں پر مالی جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان معاہدوں سے پاکستان کے ریفائننگ کے شعبے میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے، جس کا بڑا حصہ سعودی عرب سے حاصل ہونے کی امید ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کابینہ کے حالیہ اجلاس میں توانائی سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی او ای) کی اس رپورٹ پر غور کے بعد کیا گیا، جو ’موجودہ براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں ترمیم‘ سے متعلق تھی۔
گفتگو کے دوران پٹرولیم ڈویژن نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ترمیم شدہ آئل ریفائننگ پالیسی کے بنیادی مقاصد یورو-5 معیار کے مطابق پٹرول اور ڈیزل تیار کرنا، پٹرول اور ڈیزل کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اور فرنس آئل و دیگر کم قیمت مصنوعات کی پیداوار کو کم سے کم کرنا ہے۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے سالانہ تقریباً 1 ارب ڈالر کی ملکی زرِ مبادلہ میں بچت توقع ہے۔ اس ترمیم شدہ پالیسی سے پاکستان کے ریفائننگ کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے میں مدد ملے گی، بالخصوص ایسے وقت میں جب سعودی عرب پہلے ہی اس شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے۔
ان معاہدوں کے تحت پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ، سینرجیکو اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ کو شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان تمام پانچوں ریفائنریوں کی انتظامیہ نے اگلے ماہ کے اوائل تک اس پالیسی کے تحت معاہدوں پر دستخط کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
ان معاہدوں کے نتیجے میں پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔





