کراچی: وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر کے گڈز ٹرانسپورٹرز نے مال برداری کے کرایوں میں فوری طور پر 5 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ شعبے کی نمائندگی کرتے ہوئے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے قیمتوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم نرخ تبدیل کرنے کی حکومتی پالیسی کو مسترد کر دیا اور اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا کہ ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے کرایوں میں یہ ترمیم ناگزیر ہو چکی تھی۔
مزید برآں، تنظیم کی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے گزشتہ احتجاج ختم کرانے کے لیے کیے گئے معاہدوں پر پیش رفت نہ کی تو گڈز ٹرانسپورٹرز ملک گیر ہڑتال کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیں گے۔ قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کا ذکر کرتے ہوئے ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ گزشتہ 17 دنوں کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 20.36 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لاجسٹکس کے شعبے کو شدید عدم استحکام کا سامنا ہے۔ الائنس کی قیادت نے یاد دہانی کرائی کہ 8 سے 17 اگست تک کی گئی ان کی پچھلی ہڑتال وفاقی وزیر پیٹرولیم کی جانب سے روزانہ قیمتوں کی تبدیلی ختم کرنے کی یقین دہانی کے بعد 40 دنوں کے لیے ملتوی کی گئی تھی۔
ملک شہزاد اعوان نے زور دیا کہ خیرسگالی کے تحت ہڑتال ملتوی کرنے کے باوجود ٹرانسپورٹ شعبے کے زیادہ تر مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طے شدہ 40 دن کی مدت کے اندر مؤثر پیش رفت نہ ہوئی تو ٹرانسپورٹرز کے پاس ملک گیر ہڑتال دوبارہ شروع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔
معاشی ماہرین اور تجارتی تنظیموں نے تنبیہ کی ہے کہ کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا براہ راست اثر سپلائی چین پر پڑے گا، جس سے مینوفیکچرنگ اور ریٹیل کے شعبوں کے نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مہنگائی کا مزید دباؤ آئے گا۔





