فرینکفرٹ: مغربی جرمنی میں جمعے کے روز بجلی کے گرڈ ٹرانسفارمر میں شارٹ سرکٹ پیدا کرنے کی تیسری کوشش کے بعد سیکیورٹی الرٹ انتہائی اعلیٰ سطح پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران اسی تنصیب کو تخریب کاری کی دو دیگر کوششوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ کولون شہر کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں تخریب کاری کی اس کوشش کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق ایک خط کی اطلاع ملی ہے، جبکہ منگل کے روز توڑ پھوڑ کے ایک واقعے کے باعث 4,200 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت معطل ہو گئی تھی۔ پولیس نے جاری تحقیقات کے باعث مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
مقامی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق ذمہ داری قبول کرنے والے شخص نے خطوط میں اپنی شناخت ظاہر کی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کے دعوے میں کتنی سچائی ہے۔
جرمنی یورپی ممالک کے ان خدشات کا مرکز بنا ہوا ہے جو اہم بنیادی ڈھانچے کی غیر محفوظ حالت اور روس کی جانب سے ممکنہ 'ہائبرڈ وارفیئر' سے متعلق ہیں۔ گزشتہ ماہ جرمنی نے لیپزگ/ہالے ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کا الزام ماسکو پر عائد کرتے ہوئے اسے یوکرین کی حمایت کرنے والے ممالک کو ہراساں کرنے اور تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ روس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
تخریب کاری کی یہ کوشش سکسونی انہالٹ کی ریاست میں ہونے والے اہم علاقائی انتخابات سے عین قبل سامنے آئی ہے، جہاں پری الیکشن سروے میں الٹرنیٹو فار ڈوئچلینڈ (اے ایف ڈی) کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق انتخابات کے موقع پر اس قسم کے 'ہائبرڈ حملوں' کا ہونا "کوئی اتفاق نہیں" ہے۔ اے ایف ڈی کو جرمن سیاست میں انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت سمجھا جاتا ہے جس نے مسلسل روس کے ساتھ قریبی تعلقات کی حمایت میں پالیسی موقف اپنایا ہے۔
چانسلر فریڈرک مرز کے ایک ترجمان نے کہا کہ ناکام بنائی گئی یا نامکمل رہنے والی کارروائیوں کی تعداد "اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری سیکیورٹی تدابیر کتنی موثر ہیں اور واقعی کام کر رہی ہیں"۔




