ہیوسٹن: امریکہ کے مختلف حصوں میں ’فلاک‘ کیمروں اور نگرانی کے آلات کی توڑ پھوڑ اور تخریب کاری نے مسلسل نگرانی کی ضرورت اور سیکیورٹی کے ساتھ پرائیویسی تحفظات میں توازن کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ کیمرہ سسٹمز کو نقصان پہنچانے اور ناکارہ بنانے کے تازہ ترین واقعات کے بعد اب تک 36 امریکی ریاستوں میں ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
2017 میں قائم ہونے والی کمپنی ’فلاک سیفٹی‘ آٹومیٹک لائسنس پلیٹ ریڈرز (ALPRs) فراہم کرنے والی بڑی کمپنی بن چکی ہے۔ اس کے کیمرے ہر گاڑی کے پچھلے حصے کی تصاویر محفوظ کرتے ہیں اور یہ فوٹیج ایک مخصوص مدت تک ذخیرہ رہتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ 7 ہزار سے زائد کمیونٹیز کے ساتھ کام کر رہی ہے اور ملک بھر میں اس کے تقریباً 1 لاکھ کیمرے نصب ہیں۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ سسٹمز تحفظ کو بہتر بناتے ہیں اور جرائم کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ سسٹمز عام شہریوں کو بھی مشکوک نگاہ سے دیکھتے ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کی تبدیلیوں اور مصنوعی ذہانت کے اثرات پر پہلے سے موجود عوامی خدشات اور عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
خاص طور پر ہیوسٹن میں، اصل تشویش انفرادی کیمروں پر نہیں بلکہ ’فلاک‘ کے وسیع اور باہم مربوط ڈیٹا بیس پر ہے۔ اگرچہ ہیوسٹن کی میٹر ٹرانزٹ اتھارٹی کی ملکیت میں صرف 35 کیمرے ہیں، لیکن اسے فلاک نیٹ ورک کے تقریباً 20 ہزار آلات تک رسائی حاصل ہے، جن میں نیویارک جیسے دور دراز علاقوں میں نصب کیمرے بھی شامل ہیں۔
شہری حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ حکام اس قومی ڈیٹا بیس کا غلط استعمال کر کے لوگوں کے روزمرہ معمولات، سفر، اسکولوں کی لوکیشنز اور عبادت گاہوں کی نگرانی کر سکتے ہیں، جو پرائیویسی کے شدید خدشات پیدا کرتا ہے۔ کیمروں کی توڑ پھوڑ امریکی عوامی زندگی میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے غیر منظم پھیلاؤ کے خلاف بڑھتے ہوئے اضطراب کی عکاسی کرتی ہے۔



