میگڈے برگ: جرمنی کی مشرقی ریاست 'سیکسنی این ہالٹ' کے علاقائی انتخابات میں عوامی مقبولیت رکھنے والی، انتہائی رجعت پسند کی جماعت 'الٹرنیٹو فار ڈوئچلینڈ' (AfD) نے تاریخ ساز فتح حاصل کر لی ہے، جو اب تک کی اس کی بہترین کارکردگی ہے—جس نے چانسلر فریڈرک میرز کی حکمران جماعت 'کرسچن ڈیموکریٹس' (CDU) کو شدید سیاسی دھچکا پہنچایا ہے۔ حتمی نتائج کے مطابق AfD نے 43.8 فیصد ووٹ حاصل کیے، جو کہ 2021ء کے نتائج سے تقریباً دگنے ہیں، اور 83 رکنی علاقائی پارلیمنٹ میں 39 نشستیں اپنے نام کیں۔ تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار مطلق اکثریت سے صرف تین نشستیں کم ہونے کے باوجود، مرکزی امیدوار اولرچ زیگمُنڈ نے اعلان کیا کہ پارٹی نے "تاریخ رقم کر دی ہے" اور اس کے پاس حکومت بنانے کا واضح عوامی مینڈیٹ ہے۔
دوسری جانب چانسلر میرز کی CDU کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ محض 17.2 فیصد ووٹوں (15 نشستوں) پر سمٹ گئی۔ سوشل ڈیموکریٹس، گرینز اور لیفٹ پارٹی نے آٹھ آٹھ نشستیں حاصل کیں، جبکہ BSW نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ یہ نتیجہ جرمنی کے روایتی سیاسی نظام کے لیے ایک بڑا بحران کھڑا کر رہا ہے۔ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں AfD کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی اپنی پالیسی ("فائر وال") پر اب بھی قائم ہیں، جسے سیکسنی این ہالٹ کے داخلی انٹیلی جنس اداروں نے "شدت پسند دائیں بازو" کی تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
تاہم، ریکارڈ 76.5 فیصد پولنگ اور 87 فیصد مقامی ووٹروں کی جانب سے وفاقی حکومت پر عدم اطمینان کے اظہار کے بعد، سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس تقسیم شدہ اپوزیشن کے لیے AfD کو شامل کیے بغیر ایک مستحکم مخلوط حکومت بنانا انتہائی مشکل ثابت ہوگا۔





