نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا جاری دورۂ برطانیہ، لندن میں پاکستان کے نئے مقرر کردہ ہائی کمشنر ٹیپو عثمان کے لیے بھی پہلی اہم سفارتی ذمہ داری ہے۔
اسحاق ڈار اپنے پانچ روزہ سرکاری دورے پر اتوار کو لندن پہنچے، جہاں ہیترو ایئرپورٹ پر ہائی کمشنر ٹیپو عثمان نے ان کا استقبال کیا۔ 24 سے 28 اگست تک جاری رہنے والا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلام آباد اور لندن دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
ٹیپو عثمان کے لیے یہ تعیناتی اسلام آباد کے پروٹوکول کے ایوانوں سے بیرون ملک پاکستان کے اہم ترین سفارتی مشنز میں سے ایک کی قیادت سنبھالنے کی جانب پیش رفت ہے۔ انہوں نے وزارتِ خارجہ میں چیف آف اسٹیٹ پروٹوکول کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد جولائی میں ہائی کمشنر کا عہدہ سنبھالا۔ پروٹوکول کے اس عہدے کی بدولت وہ اعلیٰ سطحی غیر ملکی دوروں اور سفارتی برادری کے ساتھ رابطوں کے مرکز میں رہے ہیں۔
دو دہائیوں سے زائد تجربے کے حامل پیشہ ور سفارت کار سفیر ٹیپو عثمان ریاض میں نائب سربراہِ مشن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہوں نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کے مشن میں تقریباً چھ سال گزارے، جہاں ان کے کام میں سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے امور شامل تھے۔ اس سے قبل ان کی تعیناتیاں انقرہ اور وینکوور میں رہیں۔ فارن سروس میں شمولیت سے قبل وہ پاکستان آرمی کے آرمرڈ کور میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کے حجم اور اثر و رسوخ کے پیشِ نظر ان کی لندن میں تعیناتی خاص اہمیت کی حامل ہے۔ اسلام آباد پہلے ہی اس بات پر زور دے چکا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے قونصلر خدمات کی فراہمی اور فلاحی معاونت کی بہتری ہائی کمیشن کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
اسحاق ڈار کے دورے کے دوران برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ، ایف سی ڈی او کے وزیر اسٹیفن ڈاؤٹی اور دیگر برطانوی حکام کے ساتھ ملاقاتیں طے ہیں۔ وہ سومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی عملے کے ارکان کے معاملے پر کامن ویلتھ کی سیکرٹری جنرل اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ برطانوی پارلیمنٹیرینز اور پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
یہ دورہ ٹیپو عثمان کے نئے سفارتی کردار کے لیے ایک ابتدائی امتحان ہے، کیونکہ انہیں پاک برطانیہ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں اور برطانیہ میں مقیم وسیع پاکستانی برادری کے خدشات اور مسائل کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔








