اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بجلی کے شعبے (پاور سیکٹر) میں ایسی اصلاحات لانے کی تاکید کی ہے جن کا تمام تر محور صارفین ہوں، جبکہ حکومت اپنے اصلاحاتی اور نجکاری کے ایجنڈے کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق، اسحاق ڈار نے بجلی کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں حکومت کے اصلاحاتی اور نجکاری ایجنڈے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں اداروں کو مضبوط بنانے اور اس شعبے سے منسلک اہم تنظیموں کی صلاحیتوں میں اضافے جیسے اقدامات شامل تھے۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحاتی عمل کا فائدہ بجلی کے صارفین تک پہنچنا چاہیے، جس کا بنیادی مقصد زیادہ کارکردگی، پائیداری اور خدمات میں بہتری ہونا چاہیے۔
انہوں نے پاور سیکٹر کی بحالی اور تنظیمِ نو میں "صارف دوست" حکمتِ عملی اپنائے جانے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ اصلاحات اور نجکاری کو محض ادارہ جاتی تبدیلیوں تک محدود رہنے کے بجائے واضح اور تسلی بخش نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے۔
نائب وزیرِ اعظم نے ایک نتیجہ خیز اصلاحاتی عمل کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کی افادیت اور پاور سیکٹر کی طویل مدتی پائیداری کو حکومت کے اس اقدام کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے۔
پاکستان کا پاور سیکٹر مسلسل نااہلی، مالیاتی عدمِ پائیداری اور ناقص سروس ڈیلیوری جیسے چیلنجز کا شکار رہا ہے۔ حکومت کی اصلاحاتی اور نجکاری کی کوششوں کا مقصد ادارہ جاتی کمزوریوں کا خاتمہ اور اس شعبے کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
صارفین کے فوائد پر زور دینے سے بجلی استعمال کرنے والے افراد اصلاحاتی ایجنڈے کے مرکز میں آ گئے ہیں، جبکہ ان اقدامات کی کامیابی کا حتمی انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ اقدامات کارکردگی، پائیداری اور خدمات کے معیار کو بہتر بنا پاتے ہیں یا نہیں۔





