نیویارک: ایم آر این اے، جینیاتی سیکوینسنگ اور امیونو تھراپی کے شعبے میں پیش رفت کے باعث ہر مریض کے لیے مخصوص کینسر ویکسین کلینکل استعمال کے قریب پہنچ گئی ہے، جس سے کینسر کے علاج میں ایک نئی راہ کھل رہی ہے۔
دہائیوں سے ایسی ویکسین کا تصور جو انسانی مدافعتی نظام کو کینسر سے لڑنا سکھا سکے، محض تجرباتی مراحل تک محدود رہا ہے، تاہم اب یہ صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔
گزشتہ ماہ اس سمت میں ایک بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب دوا ساز کمپنیوں 'موڈرنا' اور 'مرک' نے میلانؤما (جلد کے کینسر) کی دوبارہ واپسی یا پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تیار کردہ انفرادی ایم آر این اے پر مبنی علاج 'انتس میران آٹو جین' کے فیز 3 کے مثبت نتائج کا اعلان کیا۔
جلد کے کینسر کے شدید خطرے سے دوچار 1,000 سے زائد مریضوں پر کی گئی اس آزمائش میں، یہ ویکسین مرک کی امیونو تھراپی دوا 'کیٹروڈا' کے ساتھ دی گئی، جس نے کینسر کے دوبارہ نہ ابھرنے اور جسم کے دیگر حصوں تک نہ پھیلنے سے متعلق اہم اہداف حاصل کر لیے۔
روایتی ویکسینز کے برعکس، جو انفیکشن سے بچاؤ کے لیے بنائی جاتی ہیں، یہ مخصوص کینسر ویکسینز علاج کی غرض سے استعمال ہوتی ہیں۔ یہ کسی بھی مریض کے ٹیومر کی جینیاتی خصوصیات کو مدنظر رکھ کر تیار کی جاتی ہیں۔
یہ عمل سرجری کے بعد ٹیومر کی سیکوینسنگ سے شروع ہوتا ہے جس میں ان میوٹیشنز (جینیاتی تبدیلیوں) کی نشاندہی کی جاتی ہے جو کینسر کے خلیات کو صحت مند خلیات سے الگ کرتی ہیں۔ یہ جینیاتی تبدیلیاں ایسے نیو اینٹی جن مارکرز پیدا کر سکتی ہیں جنہیں مدافعتی نظام بیرونی خطرہ سمجھ کر پہچان سکتا ہے۔
اس کے بعد سائنس دان منتخب کردہ نیو اینٹی جنز کی مدد سے ویکسین تیار کرتے ہیں تاکہ مریض کے ٹی سیلز (مدافعتی خلیات) کو کینسر کے ان مخصوص خلیات کو پہچاننے اور ان پر حملہ کرنے کی تربیت دی جا سکے۔ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ایم آر این اے، ڈی این اے، پیپٹائڈز اور وائرل ویکٹرز کا استعمال کرتے ہوئے یہ انفرادی علاج ممکن بنایا جا رہا ہے۔
موڈرنا اور مرک کے نتائج نے اس شعبے میں مسابقت کو مزید تیز کر دیا ہے۔ 'بایو این ٹیک' اور 'روش' سمیت دیگر دوا ساز کمپنیاں بھی اپنی انفرادی ایم آر این اے کینسر ویکسینز تیار کر رہی ہیں، جبکہ محققین پھپھڑوں، لبلبے، گردے اور بڑی آنت کے کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے خلاف بھی اس قسم کے طریقہ علاج کا تجربہ کر رہے ہیں۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں علاج کی ٹیکنالوجی کی ایک غیر متوقع دوڑ بھی شروع ہو گئی ہے۔ انفرادی ویکسینز کے لیے ہدف کے تعین کی خاطر ٹیومر کی جدید ترین سیکوینسنگ درکار ہوتی ہے، جبکہ بلڈ ٹیسٹنگ کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ علاج کے بعد کینسر کا کوئی جزو باقی ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب دوا ساز کمپنیاں جینیاتی سیکوینسنگ اور تشخیصی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔
تاہم ابھی بھی کئی اہم رکاوٹیں موجود ہیں۔ جلد کے کینسر کے فیز 3 میں مثبت نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ ویکسینز دیگر تمام کینسرز کے لیے بھی اتنی ہی مؤثر ثابت ہوں گی، اور اس کے طویل المدتی نتائج کا ڈیٹا بھی درکار ہے۔ اس کے علاوہ ہر مریض کے لیے الگ علاج کی تیاری کی رفتار، لاگت، کوالٹی کنٹرول اور عام رسائی سے متعلق بھی معتدبہ سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
امریکا اس شعبے میں تیز تر پیش رفت کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کی ایک مشاورتی کمیٹی نے انفرادی آر این اے ویکسینز، مینوفیکچرنگ کی صلاحیت، کلینکل ٹرائلز اور امیون مانیٹرنگ پر مبنی ایک قومی منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔
لہٰذا اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی اہمیت محض ایک ویکسین تک محدود نہیں ہے۔ کینسر کا علاج ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ سکتا ہے جس میں مریض کے ٹیومر کی سیکوینسنگ کی جائے گی، اس کی کمزوریوں کی نشاندہی کی جائے گی اور اسی کی بنیاد پر مخصوص مدافعتی علاج تیار کیا جائے گا۔
اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ کیا کینسر کا علاج ویکسین کے ذریعے ممکن ہے یا نہیں، بلکہ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا طبی سائنس “ایک مریض، ایک ویکسین” کا یہ طریقہ کار اتنا تیز رفتار، سستا اور قابل اعتماد بنا سکتی ہے کہ یہ عام علاج کا حصہ بن سکے۔




