گلگت: ہفتے کے روز گلگت بلتستان میں شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے مکانات، زرعی زمینوں اور اہم انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ شاہراہِ قراقرم (کے کے ایچ) سمیت اہم مواصلاتی راستے بھی معطل ہو گئے۔
صبح سویرے آنے والے سیلاب نے ضلع غذر میں بالخصوص نوبہار گاؤں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جہاں فصلوں، باغات اور زرعی زمین کے ساتھ ساتھ گشگش جماعت خانہ کو بھی نقصان پہنچا۔ سیلابی ریلوں نے بجلی کی ترسیلی لائنوں کو بھی نقصان پہنچایا اور امت اور بر جنگل کے درمیان اہم سڑک بند کر دی، جس سے متعدد آبادیوں کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ مقامی رہائشیوں نے علاقائی انتظامیہ سے ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کرنے اور سڑک کی بحالی کے کام کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خطے بھر میں آمدورفت کا نظام شدید متاثر رہا۔ گلگت بلتستان پولیس کے ترجمان کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سوسٹ اور خنجراب ٹاپ کے درمیان شاہراہِ قراقرم کا حصہ مکمل طور پر بند ہو گیا، جس پر حکام نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ تاہم، گلگت بلتستان ٹورازم پولیس نے تصدیق کی کہ ہنزہ میں مرتضیٰ آباد اور حسن آباد کے درمیان شاہراہ کا ایک اور بند حصہ صاف کر کے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
یکم اگست سے جاری گرج چمک اور آندھی کے ساتھ مسلسل بارش کے باعث علاقائی درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ضلع ڈیامیر کی انتظامیہ نے ہفتے کی صبح بابوسر ٹاپ پر موسم کی پہلی برف باری کی اطلاع دی، تاہم بابوسر روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہی۔
سفری و مواصلاتی نظام میں یہ تازہ ترین خلل خطے میں شدید گرمائی موسمی صورتحال کے بعد سامنے آیا ہے۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال جون اور اگست کے درمیان کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئر پگھلنے کے باعث علاقے میں سیلاب کے 120 واقعات پیش آئے۔ ان آفات نے مکانات، زرعی زمینوں، آبپاشی کے نالوں اور بجلی کے نظام کو تباہ کر دیا، جس کی وجہ سے متعدد علاقوں کے رہائشی طویل عرصے تک محصور رہے۔
مقامی ماحولیاتی ماہرین نے نشاندہی کی کہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی رجحانات میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جس کی نمایاں خصوصیات میں بار بار کلاؤڈ برسٹ، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت شامل ہیں۔ 8 ہزار سے زائد گلیشیئرز، 300 گلیشیائی جھیلوں اور کھڑی پہاڑی ڈھلوانوں پر مشتمل یہ نازک بلند طبعی ماحول موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی زد میں ہے، جس سے مقامی آبادیاں قدرتی آفات کی زد میں آ رہی ہیں۔





