ڈھاکہ: ازبکستان کی جانب سے چینگدو جے-10 سی ای ملٹی رول جنگی طیاروں کے حصول کی باقاعدہ تصدیق کے بعد، بنگلہ دیش نے بھی بیجنگ کے ساتھ ایک بڑا دفاعی معاہدہ طے کرنے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ وزیر اعظم زاہد الرحمن کے مشیر برائے اطلاعات و نشریات نے تصدیق کی ہے کہ ایک سرکاری کمیٹی معاہدے کا مسودہ تیار کر رہی ہے جسے وزارتِ خزانہ اور آرمڈ فورسز ڈویژن کو ارسال کیا جائے گا۔
اس مجوزہ دفاعی پیکج کا مقصد بنگلہ دیش ایئر فورس کے پرانے چینگدو ایف-7 اور مگ-29 طیاروں کے بیڑے کی جگہ 24 تک جے-10 سی ای جیٹس، جنگی ہیلی کاپٹرز، ٹرانسپورٹ طیارے اور ڈرون سسٹمز شامل کرنا ہے۔ اگرچہ ایک طیارے کی بنیادی قیمت کا تخمینہ 6 کروڑ 27 لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے، تاہم جامع لائف سائیکل سپورٹ، انفراسٹرکچر اور ہتھیاروں کی انٹیگریشن کی وجہ سے فی طیارہ حتمی لاگت تقریباً 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، ازبکستان نے 28 اگست 2026 کو اپنے 35ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے قومی ٹیلی ویژن پر نشریات کے دوران چینی جنگی طیاروں کی تائیناتی کا باقاعدہ انکشاف کیا۔ کم از کم چھ جے-10 سی ای طیاروں پر مشتمل فارمیشن کو وسطی چین میں واقع چینگدو ایئر کرافٹ کارپوریشن کی سہولت سے 3,000 کلومیٹر کی پرواز مکمل کرنے کے بعد مقامی ایئر بیس پر اترتے دکھایا گیا۔
ازبکستان کے طیاروں پر کم نظر آنے والے قومی پرچم کے نشانات موجود ہیں جبکہ ان میں معیار کے مطابق دائیں جانب فضائی ایندھن بھرنے کی پروب موجود نہیں ہے، جو طویل فاصلے تک کارروائی کی صلاحیت کے بجائے تاشقند کی مقامی فضائی دفاعی ضروریات کی عکاسی کرتی ہے۔ جے-10 سی ای کی عالمی مقبولیت میں اضافہ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے دوران پاکستان ایئر فورس میں اس کے پہلے عملی استعمال کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔ ایکٹو الیکٹرانکلی اسکینڈ اَیرے (AESA) رڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور بیونڈ ویژول رینج 'پی ایل-15' میزائلوں سے لیس یہ پلیٹ فارم تیزی سے اس عالمی مارکیٹ میں جگہ بنا رہا ہے جس پر روایتی طور پر روسی اور مغربی ایرو اسپیس کمپنیوں کا قبضہ رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیچیدہ سیاسی شرائط کا سامنا کیے بغیر اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے خواشمند ممالک کے لیے بیجنگ کا یہ آزمودہ اور تیار جنگی طیارہ علاقائی فضائی برتری کے لیے ایک بہترین متبادل ہے۔




