ڈھاکہ: وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش کو دہائیوں بعد خسرہ کی مہلک ترین وبا کا سامنا ہے جہاں مارچ سے اب تک کم از کم 986 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں اور شدید نوعیت کے مشتبہ و تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 1 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ کے شیشو ہسپتال سمیت تمام طبی مراکز کے بچوں کے وارڈز شدید متاثرہ شیر خوار بچوں سے بھر چکے ہیں اور طبی عملہ تیزی سے پھیلتی اس وبا پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
صحت عامہ کے حکام کے مطابق ملک بھر میں روزانہ خسرہ کے 1,000 سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جن میں زیادہ تر چھ ماہ سے پانچ سال تک کی عمر کے بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس بحران کو غذائی قلت نے مزید شدید کر دیا ہے جس سے بچوں کا نظام مدافعت کمزور ہو کر نمونیا اور دماغی سوجن جیسی مہلک پیچیدگیوں کے خطرے کو بڑھا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق متعدد شیر خوار بچوں کو تشویشناک حالت میں خصوصی طبی مراکز لایا جا رہا ہے جہاں انہیں مسلسل آکسیجن اور انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑ رہی ہے۔
خسرہ کے کیسز کی موجودہ لہر نے ملک میں باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں نمایاں خلا کو ظاہر کیا ہے۔ اگرچہ ماضی میں بنگلہ دیش میں ویکسینیشن کا بہترین ریکارڈ رہا ہے، تاہم سیاسی عدم استحکام، بڑے پیمانے پر احتجاج اور ہڑتالوں کے باعث 2024 اور 2025 کی قومی مہمات میں شدید رکاوٹیں اور تاخیر پیش آئیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ایس ایم ضیاء الدین حیدر نے اس صورتحال کو "تباہ کن" قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ طبی حکام نے مدافعتی خلا کو پر کرنے اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایمرجنسی ماس ویکسینیشن ٹیمیں میدان میں اتار دی ہیں۔




