ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں ڈینگی کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے جہاں رواں سال اب تک 42 ہزار 590 افراد اسپتالوں میں داخل ہو چکے ہیں اور 117 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
بنگلہ دیش کے وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے کم از کم چار مریض جاں بحق ہوئے جبکہ 1,558 افراد کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ یہ رواں سال ایک دن میں ڈینگی کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
مریضوں میں اس تیزی سے اضافے نے اسپتالوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جو پہلے ہی ملک بھر میں پھیلنے والی خسرہ کی وبا سے نمٹ رہے ہیں۔ رواں سال خسرے کے باعث تقریباً ایک ہزار بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ڈینگی ایک مچھر سے پھیلنے والی بیماری ہے جو تیز بخار، شدید سر درد اور بعض صورتوں میں جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اس کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے 2023 کی شدید ترین ڈینگی وبا کے بعد ایک بار پھر تشویش بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کو ستمبر میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اگست میں ڈینگی کے ماہانہ مریضوں کی تعداد رواں سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم ماہرین کے مطابق ستمبر میں یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
جہانگیر نگر یونیورسٹی کے طبی ماہر حشرات پروفیسر کبیرالبشر نے کہا کہ ان کے نگرانی اور پیش گوئی کے ماڈل کے مطابق موجودہ رجحان برقرار رہا تو ستمبر میں ڈینگی کے باعث اسپتال داخل ہونے والے افراد کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موسمی حالات اکتوبر تک ڈینگی کے پھیلاؤ کے لیے سازگار رہ سکتے ہیں، جس سے صحت کے نظام پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
روزانہ مریضوں کی ریکارڈ تعداد اور خسرے کی وبا کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار صحت کے نظام کے سامنے اب ڈینگی پر قابو پانے کا چیلنج مزید بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بیماری کی نگرانی، مچھروں کی افزائش روکنے اور اسپتالوں کی تیاری میں اضافے کی ضرورت ہے۔





