اسلام آباد: پاکستان کے نئے سیکریٹری خارجہ اقوام متحدہ میں ملک کی نمائندگی سے دفتر خارجہ کی سربراہی تک پہنچ رہے ہیں، جہاں انہیں ایک پیچیدہ عالمی اور علاقائی صورتحال کا سامنا ہوگا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو اعلان کیا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد ملک کے نئے سیکریٹری خارجہ ہوں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عاصم افتخار احمد کی قیادت میں دفتر خارجہ پاکستان کے مفادات کو “وضاحت، پیشہ ورانہ انداز اور مقصد” کے ساتھ آگے بڑھاتا رہے گا۔
وزیر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان تقرریوں کی منظوری دے دی ہے۔
عاصم افتخار احمد نے اپنی تقرری کو “بڑا اعزاز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قیادت کے اعتماد پر شکر گزار ہیں اور قومی مفاد کو آگے بڑھانے کی اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب موجودہ سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔ وہ 11 ستمبر 2024 سے پاکستان کی 33ویں سیکریٹری خارجہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور 17 ستمبر کو سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو جائیں گی۔
اسحاق ڈار نے آمنہ بلوچ کی خدمات اور دفتر خارجہ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی سفارتی تاریخ کے ایک اہم دور میں ذمہ داریاں انجام دیں۔
ریٹائرمنٹ کے بعد آمنہ بلوچ ترکیہ میں پاکستان کی سفیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ وہ نئے منصب پر بھی پاکستان کی مؤثر نمائندگی جاری رکھیں گی۔
عاصم افتخار احمد کے لیے نئی ذمہ داری ایسے وقت میں آ رہی ہے جب پاکستان کو بڑی طاقتوں، پڑوسی ممالک اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ میں ان کا موجودہ تجربہ انہیں کثیر الجہتی سفارت کاری کا عملی پس منظر بھی فراہم کرتا ہے۔ اب یہ تجربہ پاکستان کی مجموعی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے میں کس طرح استعمال ہوتا ہے، یہی ان کی نئی ذمہ داری کا اہم امتحان ہوگا۔





