اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیرِ صدارت مین لائن-1 (ایم ایل-1) ریلوے منصوبے کے روہڑی تا ملتان سیکشن کے لیے فنانسنگ کے اختیارات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکینک) نے 2020 میں اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 6.8 ارب امریکی ڈالر لگایا تھا۔ یہ کمیٹی وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر فنانسنگ کی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔
احسن اقبال نے کہا، ”ایم ایل-1 ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن ہماری اولین ترجیح ہے۔“ انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی تا روہڑی سیکشن پر کام کا آغاز جاری مالی سال کے دوران کر دیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے روہڑی تا ملتان سیکشن کو نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے تعمیر کرنے کے امکانات پر بریفنگ دی۔ اس سیکشن کی تخمینہ لاگت 450 ارب روپے سے زائد بتائی گئی۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ منصوبے کی تکنیکی اور مالیاتی افادیت کا غیر جانبدارانہ جائزہ یقینی بنانے کے لیے کسی معتبر تھرڈ پارٹی سے فیزیبلٹی اسٹڈی کرائی جائے۔
انہوں نے وزارتِ ریلوے کو انجنوں (لوکوموٹوز)، کارگو رولنگ اسٹاک اور مسافر کوچز کی فنانسنگ کی ضروریات سے متعلق اپنا ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وفاقی وزیر نے سوال کیا، ”لوکوموٹوز، کارگو رولنگ اسٹاک اور کوچز کے لیے کتنے فنڈز درکار ہوں گے؟“ اور وزارت کو ریلوے کی تمام رولنگ اسٹاک ضروریات کے جامع فنانسنگ پلان پر کام کرنے کی ہدایت کی۔
احسن اقبال نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ترقیاتی بجٹ میں مسلسل کٹوتیوں سے قومی اور عوامی اہمیت کے منصوبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ریلوے کے اسٹریٹجک نوعیت کے انفراسٹرکچر منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے فنانسنگ کے جدید ذرائع کی تلاش اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر زور دیا۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران ریلوے ٹریکس کی دگرگوں حالت کی وجہ سے ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 399 اور دیگر 158 حادثات پیش آئے، جو ریلوے لائنز کی فوری اپ گریڈیشن کی اشد ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔




