سیاست
نئے صوبوں کے قیام کی بنیادی وجہ آبادی میں اضافہ ہے: ماہرین
ممتاز سیاسی اور تعلیمی شخصیات کا کہنا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے آبادی میں مسلسل اضافہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے ایک مضبوط جواز ہے۔

پاکستان کے موجودہ صوبوں میں سے نئے انتظامی ڈویژنز بنانے کی بحث زور پکڑتی جا رہی ہے، جہاں ماہرین اور سیاسی شخصیات کا موقف ہے کہ موجودہ انتظامی تقسیم فرسودہ ہو چکی ہے اور موجودہ دور کی ملکی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔
اسلام آباد میں 14 اگست کو ایس ڈی پی آئی کے تحت منعقدہ ایک فورم میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کی کثیر سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ ماہرینِ تعلیم نے بھی اس مسئلے پر اظہارِ خیال کیا۔ کئی شرکا کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے میں کسی بھی مجوزہ تبدیلی سے قبل احتیاط اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔
یہ بحث اکثر سیاسی خدشات سے گھری رہتی ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں کو ڈر ہے کہ یہ اقدام صدارتی نظامِ حکومت کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے، جس سے وفاقی سطح پر ان کے اختیارات کم ہو سکتے ہیں۔ سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کے متعارف کردہ ضلع ناظمین کے نظام کو عوامی سطح پر انتہائی مقبول، موثر اور فعال سمجھے جانے کے باوجود کئی سیاسی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔
تاہم اس بحث کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ 1947ء میں آزادی کے بعد سے پاکستان کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس وقت کی صوبائی حد بندیاں انگریزوں نے برادریوں کو تقسیم رکھنے کے مقصد سے لسانی اور قومیتی بنیادوں پر قائم کی تھیں۔ 1954ء میں اس وقت کے مغربی پاکستان کی کل آبادی چار کروڑ سے بھی کم تھی، جبکہ آج صرف پنجاب کی آبادی 11 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جو دنیا کے اکثر ممالک سے زیادہ ہے۔
مجلے 'ساؤتھ ایشیا' میں لکھتے ہوئے ڈاکٹر مہتاب کریم نے اشارہ کیا کہ 2050ء تک پاکستان کی آبادی 31 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، اور صوبوں کو مزید آسان اور قابلِ عمل انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے میں تاخیر سے عوام کی ضروریات کو پورا کرنے اور مسائل حل کرنے کی ریاستی صلاحیت مزید متاثر ہوگی۔
انہوں نے 20 انتظامی یونٹس اور ان میں شامل اضلاع کی ایسی تقسیم تجویز کی جس میں سب سے بڑے یونٹ کی آبادی 2 کروڑ 10 لاکھ ہوگی۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے لیے لکھتے ہوئے ڈاکٹر عمران صابر اور رمیز احمد نے 2021ء میں کیے گئے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 82.5 فیصد رائے دہندگان نئے صوبوں کے حق میں تھے جبکہ 81 فیصد کا ماننا تھا کہ ان کے موجودہ صوبے کی آبادی بہت زیادہ ہے۔
ان کی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 81 فیصد افراد کے نزدیک چھوٹے انتظامی یونٹس بہتر طرزِ حکمرانی کا باعث بنیں گے، جبکہ 64.1 فیصد نے مضبوط مقامی حکومتوں کے قیام کی حمایت کی۔





