کراچی: کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے 21 سالہ میر رضا کی لاش ملنے کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے متعلقہ تھانے کے تفتیشی افسر اور محرر کو طلب کر لیا ہے۔ کمیشن کے ارکان نے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کامران قریشی اور ہیڈ محرر ذیشان کو پیر 7 ستمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مقدمے کے اندراج میں تضادات سامنے آنے کے بعد سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر یہ کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ میر رضا کو مبینہ طور پر 29 جولائی کو شہر کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے اغوا کیا گیا تھا اور دو روز بعد ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی رپورٹ میں موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے پولیس تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کیے جانے کے بعد ضابطے کی سنگین خامیاں سامنے آئیں۔
ڈی ایس پی سراج لاشاری نے بتایا کہ 13 اگست سے تفتیش کا آغاز "ازسرِ نو" کیا گیا ہے اور اس میں سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت ڈیجیٹل شواہد استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے گولی کا خول تو برآمد کر لیا ہے تاہم آلۂ قتل ابھی تک نہیں مل سکا، جبکہ دوسرے پوسٹ مارٹم کے حتمی نتائج اور دیگر فارنزک رپورٹس کا بھی انتظار ہے۔
کمیشن اب تک تفتیش اور مقدمے کے اندراج میں ملوث دو افسران سے پوچھ گچھ کر چکا ہے جبکہ ایس ایچ او کامران قریشی سمیت دیگر تین افراد کو بھی طلب کیا گیا ہے۔




