اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے گرین انکلیو ون ہاؤسنگ اسکیم میں طویل تاخیر اور متاثرین کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متفقہ طور پر ان کے جائز حقوق کے تحفظ اور منصوبے کو 18 ماہ میں مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل کو سینیٹر ناصر محمود کی صدارت میں قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین نے طویل تاخیر کے مدنظر فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کے جوائنٹ وینچر (جے وی) پارٹنر کی کارکردگی اور معاہدے کی پاسداری سے متعلق اس کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے۔
بعد ازاں کمیٹی کو گرین انکلیو ون ہاؤسنگ اسکیم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نیب نے کمیٹی کو بتایا کہ 2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے کلیئرنس ملنے کے بعد منصوبے کی تحقیقات ختم کر دی گئی تھیں، تاہم کلیئرنس کے باوجود یہ منصوبہ کئی سالوں سے ادھورا پڑا ہے جس کے باعث لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا اور الاٹیز کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
چیئرمین نے طویل تاخیر کے پیش نظر ایف جی ای ایچ اے کے جوائنٹ وینچر پارٹنر کی کارکردگی اور اس کی معاہداتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ جے وی پارٹنر کی جانب سے تاخیر کے باوجود ایف جی ای ایچ اے نے جرمانے کی کوئی شق لاگو نہیں کی۔
ایف جی ای ایچ اے نے کمیٹی کو ایف-12/جی-12، جی-14، جی-15 اور دیگر اسکیموں میں جاری تجاوزات مخالف آپریشنز پر بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 60 فیصد سے زائد تجاوزات کا خاتمہ کیا جا چکا ہے جبکہ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں تجاوزات زدہ تقریباً 3 ہزار کنال اراضی واگزار کرا لی گئی ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ یہ آپریشنز مرحلہ وار کیے جا رہے ہیں۔
ایف جی ای ایچ اے نے کمیٹی کو بتایا کہ جے وی پارٹنر کے ساتھ مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور لاگت میں اضافے کے حوالے سے ایف جی ای ایچ اے بورڈ کی منظوری کا انتظار ہے۔ جے وی پارٹنر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ گرین انکلیو ون کو اگلے 18 ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔
کمیٹی نے ایف جی ای ایچ اے کی اسکائی گارڈنز ہاؤسنگ اسکیم میں شاملات اور جنگلات کی زمین کے مبینہ الحاق کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جے وی پارٹنر نے یہ زمین ایف جی ای ایچ اے کو بلا معاوضہ منتقل کی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے شاملات کی زمین پر کسی قسم کی تعمیرات یا ترقیاتی کام نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ نیب نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایف جی ای ایچ اے کی جانب سے اسکائی گارڈنز ہاؤسنگ اسکیم کے ترقیاتی کاموں میں موضع مینگل کو شامل کرنے کا اضافی اعلامیہ (ایڈنڈم) جاری کرنے کے بعد موضع مینگل میں شاملات کی زمین پر مبینہ قبضے کی تحقیقات دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
ایف جی ای ایچ اے کا موقف تھا کہ اسسٹنٹ کلیکٹر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو (اے ڈی سی آر) نے معاملہ اتھارٹی کے حق میں طے کیا تھا، جس سے اس موقف کی توثیق ہوئی کہ متنازع زمین سیٹلڈ لینڈ ہے نہ کہ شاملات۔ تاہم سیکریٹری ہاؤسنگ نے کمیٹی کو بتایا کہ تقریباً 2,600 کنال اراضی پر ترقیاتی کام فوری طور پر روک دیا گیا ہے اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ معاملے کے حتمی فیصلے تک متنازع زمین پر کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں کیا جائے گا۔
چیئرمین نے نیب کو معاملے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی اور بیورو پر زور دیا کہ تفتیش کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔





