اسلام آباد: یومِ دفاع 2026 کے موقع پر صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے علاقائی امن کے فروغ اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرونی معاشی استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق، ”ہماری حقیقی طاقت نہ صرف دفاعی صلاحیتوں میں پنہاں ہے بلکہ ایک متحد، پرامن، مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط قوم میں بھی ہے۔“ بیان میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات جاری رکھے گی اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کو آگے بڑھائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ”شجاعت و بسالت کی شاندار روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ہماری مسلح افواج نے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی بہترین پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے تحت روایتی حریف کو ایسا جواب دیا جسے نسلیں یاد رکھیں گی۔“
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ملک کا ”سب سے بڑا چیلنج جہالت، غربت اور پس ماندگی کا خاتمہ اور پاکستان کو قائدِ اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے وژن کے مطابق ڈھالنا ہے۔“
ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں صدر نے مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے پاکستان کی خودمختاری کے مسلسل دفاع پر افواجِ پاکستان کو سراہا۔ انہوں نے کہا: ”معرکہٴ حق میں کامیابی 6 ستمبر کے حب الوطن اور آزادی کے جذبے کا تسلسل ہے۔ معرکہٴ حق نے ہماری قومی تاریخ میں ایک اور سنہرا باب رقم کیا ہے۔ یہ غیر معمولی کامیابی ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، شجاعت اور بہادری کی مظہر ہے اور عوام اور مسلح افواج کے مابین دیرینہ اور مثالی رشتے کی عکاسی کرتی ہے۔“
انہوں نے علاقائی سلامتی میں پاکستان کے کردار پر بھی بات کی اور کہا کہ ایک پرامن اور ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان خطے اور دنیا بھر میں امن، مذاکرات اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ”پاکستان ایک اہم علاقائی سیکورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے، جو اپنی سرحدوں سے باہر بھی امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اس کے بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر ہے۔“



