کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے جمعے کے روز نئے صوبوں کے قیام کے مسئلے پر حکومت کے موقف کا سوال اٹھایا، جو حال ہی میں ملک کی قومی سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
گزشتہ ماہ قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران پی پی پی کے رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ایوان میں آ کر نئے صوبوں کے مسئلے پر پالیسی بیان دینے کا مطالبہ کیا تھا—
اس معاملے پر میڈیا میں مختلف اندازے اور قیاس آرائیاں جاری ہیں، جن میں بعض ذرائع ابلاغ یہ رپورٹ کر رہے ہیں کہ 8 سے لے کر 30 تک نئے انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
جمعے کو گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی-پارلیمنٹرینز کے سیکرٹری جنرل نیر حسین بخاری نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا، "ہم جاننا چاہتے ہیں کہ نئے صوبوں پر وزیر اعظم کا کیا موقف ہے، کیونکہ ان کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آ رہا، جبکہ وفاقی کابینہ کے متعدد ارکان بظاہر اس منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔"
انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر اس طرح کی کوئی تجویز زیر غور ہے تو وزیر اعظم کو اسے وفاقی کابینہ کے سامنے لانا چاہیے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ جب اس وقت کی پی پی پی حکومت کے دور میں اٹھارویں ترمیم منظور کی گئی تھی تو تمام فریقین کے درمیان مشاورت کا عمل ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہا تھا اور اس مسئلے پر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے قائم کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی کسی بھی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھاری اکثریت اور وفاقی اکائیوں سے مشاورت ضروری ہوگی۔
بعد ازاں جمعے کے روز ہی گفتگو کرتے ہوئے سیاسی امور کے لیے وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فی الوقت نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے کوئی تیاریاں نہیں کی جا رہیں۔



