اسلام آباد: ماہرین، ماہرینِ آبیات اور پالیسی سازوں نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو عارضی امدادی کارروائیوں سے نکل کر فوری طور پر طویل المیعاد اور انقلابی ماحولیاتی موافقت کی پالیسی کی طرف منتقل ہونا پڑے گا۔ اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کے زیرِ اہتمام فورم سے خطاب کرتے ہوئے پینلسٹس نے زور دیا کہ بار بار آنے والے سیلاب اب کوئی غیر متوقع آفت نہیں رہے بلکہ ایک مستقل سچائی بن چکے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے حکمرانی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ماہرین کی جانب سے یہ انتباہ خطے میں شدید موسمی واقعات کے مسلسل سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ چترال سمیت شمالی علاقوں میں مونسون کی طوفانی بارشوں، ناگہانی سیلابوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث 163 افراد جاں بحق اور تقریباً 500 زخمی ہوئے۔ اس سے قبل آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں زراعت کو اندازاً دو ارب ڈالر کا نقصان پہنچا تھا، 2 لاکھ 29 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوئے اور پانی سے پھیلنے والی بیماریاں پھوٹ پڑی تھیں۔
دوسری جانب نیپال میں گلیشیئر گرنے کے ایک تباہ کن واقعے میں 350 سے زائد افراد کی ہلاکت کو گلگت بلتستان کے لیے ایک اہم تنبیہ قرار دیا گیا ہے، جہاں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 1,700 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر جنگلات ختم ہو چکے ہیں، جس سے ناپائیدار پہاڑی ڈھلوانیں اپنے قدرتی دفاع سے محروم ہو گئی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے تبدیلیٔ آب و ہوا ڈاکٹر مصدق ملک نے اعتراف کیا کہ دہائیوں کی اعلیٰ سطحی گفتگو کے باوجود عملی طور پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ دار ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی خطرات کی زد میں ہے، جبکہ بین الاقوامی ماحولیاتی مالیات تک اس کی رسائی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اقدامات کو محض بیان بازی سے نکل کر جوابدہ اور عملی اقدامات کی شکل دینی ہوگی۔
ہنگامی بنیادوں پر صرف فوری ریلیف دینے کے طریقہ کار کو ختم کرنے کے لیے ماحولیاتی ماہرین نے قومی سطح پر پائیداری کے لیے بنیادی ترجیحات کی نشاندہی کی۔ ان میں کمیونٹی کی سطح پر قبل از وقت اطلاع دینے کے نظام کے ذریعے مقامی آبادی کو بااختیار بنانا، غیر قانونی تجاوزات کی روک تھام کے لیے سیلابی علاقوں میں عمارت سازی کے قوانین کا سختی سے نفاذ، اور قدرتی دفاع کے طور پر دریاؤں کے کنارے جنگلات اور دلدلی علاقوں کی بحالی شامل ہیں۔ یو این ڈی پی کے مقیم نمائندے سیموئیل رزق اور ماحولیاتی کارکن عافیہ سلام سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ متاثرہ آبادی کو آنے والے ماحولیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مقامی کمیونٹی کے روایتی علم کو سائنسی پیش گوئیوں کے ساتھ جوڑنا انتہائی ضروری ہے۔





