اسلام آباد: پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر نے کہا ہے کہ ملک کو یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت حاصل ترجیحی حیثیت کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے، جس کی میعاد رواں سال کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان کو آئندہ آنے والے نئے نظام میں شمولیت کے لیے دوبارہ درخواست دینی ہوگی جس کی شرائط کہیں زیادہ سخت ہیں۔
سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے کہا، ”صورت حال حتمی نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جی ایس پی پلس کی مراعات کو لازمی یا دائمی نہیں سمجھا جا سکتا۔“
اگرچہ نیا تجارتی فریم ورک نئے سال کے آغاز سے نافذ العمل ہوگا، تاہم پاکستان 31 دسمبر 2028 تک ختم ہونے والے دو سالہ عبوری دور کے دوران ان مراعات کا حامل رہے گا۔
تاہم، عبوری مدت اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ اگلے دو سال تک یہ سہولت برقرار رہے گی یا پاکستان خود بخود نئے فریم ورک میں شامل ہو جائے گا۔ رواں سال جولائی میں جاری کی گئی یورپی کمیشن کی رپورٹ (2023-25) کے مطابق پاکستان کو مالیاتی پاسداری سے متعلق مسائل کا سامنا رہا اور محدود پیش رفت کے علاوہ متعدد اہم شعبوں میں تنزلی بھی دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ زیادہ تر اقدامات کے عملی نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔ مسٹر کاروبلس نے کہا، ”کچھ شعبوں میں گراوٹ آئی ہے اور ظاہر ہے کہ حکومت کو ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،“ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا تعلق موجودہ جی ایس پی پلس کنونشن کی عملداری اور نئی اسکیم میں دوبارہ شمولیت دونوں سے ہے۔
گزشتہ ہفتے دفتر خارجہ کی بریفنگ کے دوران سبکدوش ہونے والے ترجمان طاہر اندرا بی نے کہا تھا کہ پاکستان یورپی کمیشن کی جانب سے مسلسل پاسداری کے اعتراف کو سراہتا ہے، لیکن رپورٹ کے مجموعی تاثر میں ”پاکستان کی کارکردگی کی متوازن تصویر پیش نہیں کی گئی۔“
انہوں نے مزید کہا، ”جی ایس پی پلس یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور ہم یورپی یونین کے ساتھ مثبت بات چیت جاری رکھیں گے اور اس فریم ورک سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے پرعزم رہیں گے۔“
اس فریم ورک پر سب سے زیادہ انحصار ٹیکسٹائل اور تیار شدہ ملبوسات کے شعبے پر ہے، جو یورپی مارکیٹ میں پاکستان کی برآمدات کا 70 سے 76 فیصد حصہ ہیں۔ چمڑے کی مصنوعات، تیار خوراک اور مشروبات دیگر اہم شعبے ہیں۔
چنانچہ ترجیحی رسائی کے خاتمے کے نتائج صرف ڈیوٹی کی چھوٹ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات جیسی مصنوعات ملک کی اہم ترین برآمدی منڈیوں میں مقابلے کی صلاحیت کھو سکتی ہیں۔
اس فریم ورک کے تحت بنیادی معاہدوں پر عمل نہ کرنے کی سنگین صورت میں ترجیحات کی جزوی یا مکمل منسوخی کی گنجائش موجود ہے۔ ماضی میں بولیویہ کو جزوی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ سری لنکا اپنی تمام ترجیحات سے محروم ہو گیا تھا۔
مسٹر کاروبلس نے کہا کہ پاکستان کے کیس میں فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”اس بات کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے کہ آیا مخصوص شعبوں میں ہونے والی تنزلی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ضوابط کے تحت جزوی یا مکمل عارضی معطلی کا عمل شروع کیا جا سکے۔“





