راولپنڈی — قومی اسمبلی کی ملازمہ حنا جاوید کے سفاکانہ قتل کے بعد ویمن پارلیمانی کاکس (ڈبلیو پی سی) نے سیکرٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی قیادت میں اجلاس منعقد کیا تاکہ خاتون سرکاری ملازمین کی کام کی جگہ اور گھروں میں تحفظ کے فریم ورک کا جائزہ لیا جا سکے۔ ایک پارلیمانی وفد نے حنا جاوید کے اہلخانہ سے ملاقات کی، جبکہ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) اور ایوان کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ دونوں نے تصدیق کی کہ وہ پولیس تفتیش کی پیشرفت کی نگرانی کریں گے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پارلیمانی کمیٹیاں حنا کے قتل کی تحقیقات کی نگرانی کر رہی ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، ان کی شادی نومبر 2025 میں ہوئی تھی اور 20 اگست کو راولپنڈی میں ان کے سسرال کے واش روم میں بندھی ہوئی حالت میں ان کی لاش ملی تھی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں شدید جسمانی تشدد کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں گردن کی ہڈی ٹوٹنا، پسلیوں کو نقصان پہنچنا اور گلا گھونٹنے کے نشانات شامل ہیں۔
مقتولہ کے سسر اصغر علی نے ابتدائی طور پر واقعے کو ڈکیتی قرار دیا تھا، تاہم تفتیشی ٹیم نے موقعِ واردات کے ابتدائی معائنے کے بعد اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ بعد ازاں پولیس نے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (قتلِ عمد) اور 34 (اشتراکِ نیت) کے تحت مقتولہ کے شوہر سہیل اصغر، سسر اور ان کے گھریلو ملازم ذیشان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
26 اگست کو راولپنڈی کی ضلع کچہری میں سماعت کے دوران سول جج رانا شاہنواز خان نے سہیل اصغر اور ذیشان کے جسمانی ریمانڈ میں تین روز کی توسیع کر دی۔ عدالت نے تفتیشی افسران کو ہدایت کی کہ تفتیش میں تیزی لائی جائے اور لاہور میں واقع پنجاب فارنسک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) سے ڈی این اے اور پولی گراف رپورٹ موصول ہونے کے بعد حتمی چالان پیش کیا جائے۔ مقتولہ کے اہلخانہ کی نمائندگی کرنے والے وکیل ایڈووکیٹ شاہ خاور نے عدالت سے استدعا کی کہ بلا تعطل تفتیش یقینی بنانے کے لیے سسر کی بھی باضابطہ گرفتاری کا حکم دیا جائے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران گریٹر اسلام آباد کے علاقے میں خواتین کے قتل کے ایسے ہی تین دیگر واقعات کے پیشِ نظر قانون ساز اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اس کیس پر بھی سرکاری ردِعمل سامنے آیا ہے۔





