اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹوں کی تشکیل عوام کی خواہشات کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ انہوں نے نظام کی ری سیٹ (درستگی) کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے وضاحت کی کہ نظام کی ناکامی کے بارے میں ان کے سابقہ بیانات کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا، "ری سیٹ کا مطلب نظام کو تباہ کرنا نہیں بلکہ غلطیوں کی اصلاح ہے۔ اگر کوئی کمپنی کام نہ کر رہی ہو تو اس پر غور کیا جاتا ہے کہ اسے کیسے چلایا جائے۔"
ان کا یہ بیان پاکستان میں طرزِ حکمرانی اور انتظامی امور پر جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے، جس پر پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے مختلف موقف سامنے آ رہے ہیں۔ اس بحث کا آغاز بظاہر جولائی میں وزیر داخلہ کے اس بیان سے ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ سیاسی، انتظامی اور حکومتی نظام عام لوگوں کو خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور عملًا "تباہ" ہو چکا ہے۔
نئے انتظامی یونٹ بنانے کی تجاویز نئی نہیں ہیں اور پاکستان کا بڑا رقبہ اور آبادی میں نمایاں اضافہ اس نقطہ نظر کی تائید کرتا ہے، کیونکہ یہاں کے بعض صوبے دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑے ہو چکے ہیں۔ اپنے تازہ ترین بیان میں وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کو درپیش دیرینہ خامیوں کو دور کرنے اور شہریوں کو بہتر نتائج فراہم کرنے کے لیے اپنے نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، "انتظامی ڈھانچہ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ ری سیٹ کے مطالبے کے پیچھے اصل مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس اقدام کا بنیادی مقصد "نظام کو بہتر بنانا" ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی تمام تبدیلیاں آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر ہونی چاہئیں، نہ کہ کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد واحد کی منشا کے مطابق۔
انہوں نے کہا، "نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کا فیصلہ پاکستان کے عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔" ان کا مزید کہنا تھا، "یہ صورتحال کسی ایک حکومت کا نتیجہ نہیں بلکہ 79 سال کی کارکردگی کا حاصل ہے۔"



