اسلام آباد: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کو مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے قانونی حق کے پانی کو روکنے کی کسی بھی کوشش کے "علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج" برآمد ہوں گے۔ واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام 'سندھ طاس معاہدہ: دوراہے پر جنوبی ایشیائی سلامتی' کے عنوان سے منعقدہ ورچوئل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقوق اور مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد اپریل 2025ء میں بھارت کی جانب سے معاہدی ذمہ داریوں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے کے باوجود 1960ء کا یہ معاہدہ "معتبر، پابند اور مکمل طور پر نافذ العمل" ہے۔ اسحاق ڈار نے نشاندہی کی کہ معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو کسی بھی فریق کو سیاسی اعلانات کے ذریعے اپنے التزامات یکطرفہ معطل کرنے یا بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو ختم کرنے کی اجازت دیتی ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اہم معاہدوں کو پسِ پشت ڈالنا بین الاقوامی تعلقات کے لیے ایک خطرناک روایت قائم کرتا ہے اور عالمی قانونی ڈھانچے پر اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
دریاؤں کے اس نظام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے وادیٔ سندھ (انڈس بیسن) کو 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے لیے ایک ناگزیر لائف لائن قرار دیا، جس کا براہِ راست تعلق قومی غذائی تحفظ، زراعت اور معاشی استحکام سے ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ سندھ طاس معاہدہ دہائیوں کے فوجی تنازعات اور سیاسی کشیدگی کے باوجود قائم رہا، کیونکہ دونوں ممالک تاریخی طور پر اس بات کا ادراک رکھتے تھے کہ پانی کے انتظامی امور کو وسیع تر سفارتی کشمکش سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے یکطرفہ اقدامات کے بجائے تعمیری مذاکرات اور تکنیکی تعاون کی طرف واپسی پر زور دیا۔ انہوں نے آیندہ لائحہ عمل کے لیے تین بنیادی اصول تجویز کیے: معاہدے کی اصل روح کے مطابق اس پر من و عن عمل درآمد، تمام تنازعات کا حل صرف عالمی عدالتِ ثالثی جیسے قائم شدہ قانونی راستوں سے نکالنا، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیٹا کی شفاف فراہمی اور تکنیکی اشتراکِ عمل کو تقویت دینا۔





